خوبصورتی کیلئے آنکھوں کی سرجری کروانے والی 31 سالہ انفلوئنسر انتقال کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
برازیل میں خوبصورتی میں اضافے کیلئے آنکھوں کی سرجری کروانے والی مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر ایڈیئر مینڈیز ڈوٹرا جونیئر انتقال کر گئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 سالہ فیشن انفلوئنسر کو سرجری کے بعد پیچیدگیوں کا سامنا ہوا اور کئی ماہ کے علاج کے بعد وہ چل بسیں۔
رپورٹس کے مطابق ایڈیئر مینڈیز نے مارچ 2025 میں ایک معروف کاسمیٹک سرجن سے آنکھوں کی ’فاکس آئی سرجری‘ کروائی تھی جس سے آنکھیں بلی جیسی اور دلکش ہوجاتی ہیں۔ تاہم سرجری کے بعد ان کے چہرے پر شدید سوجن اور نیلے نشانات نمودار ہوئے، جن کے بارے میں انہوں نے اپنے مداحوں سے سوشل میڈیا ویڈیوز میں کھل کر بات کی۔
بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ سرجری کے نتیجے میں انہیں جلد کا انفیکشن ہوگیا ہے اور وہ جلد کے ماہر ڈاکٹر کی زیر نگرانی علاج کروا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ انفیکشن بڑھ جانے کے بعد ایڈیئر مینڈیز نے متعلقہ بیوٹی سرجن کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں ڈاکٹر پر سنگین غفلت، دھوکہ دہی اور جسمانی نقصان کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
3 اکتوبر کو ایڈیئر مینڈیز کو سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دم توڑ گئیں۔ نوجوان انفلوئنسر کی موت کی ممکنہ وجہ سرجری کے بعد ہونے والا انفیکشن بتایا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایڈیئر مینڈیز سرجری کے کے بعد
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔