وزیرمملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی خواہش کے عین مطابق امن منصوبہ اور جنگ بندی ہونے کے بعد اب ٹی ایل پی کو تکلیف ہورہی ہے اور وہ احتجاج کے نام پر فساد کرنا چاہتی ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے طلال چوہدری نے کہا کہ غزہ کے نام پر اسلام آباد احتجاج کے حوالے سے سارے صوبوں میں ایکشن کیے گئے اور اسلام آباد و پنجاب سے ٹی ایل پی کے جو عہدیدار گرفتار ہوئے اُن سے پروگرام کے پمفلٹ نہیں بلکہ پولیس پر حملہ کرنے کا سامان برآمد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کے عہدیداروں سے کیل والے ڈنڈے، کیمیکل، شیشے کی گولیاں، شیل گن، شیل اور اس سے بچاؤ کے ماسک برآمد ہوئے، انہیں اب فلسطین میں امن ہونے پر مسئلہ ہے اور یہ احتجاج کے نام پر فساد کرنا چاہتے ہیں۔
وزیرمملکت نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی انتشاری سیاست اور پروگرام کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
 انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بے خوف اور بےباکی سے فلسطین کا مقدمہ عالمی فورمز پر اٹھایا اور عملی طور پر ہم اُن ممالک میں شامل ہیں جس نے ادویات، غذائی امداد بھیجی، فلسطین کے بچوں کو پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم دی جارہی ہے، زخمیوں کو عارضی اسپتال بناکر دی اور وہاں سے مریضوں کو یہاں لائے، یہ واحد ملک پاکستان نے کیا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پوری دنیا کے 57 مسلم ممالک میں سے 8 میں بھی پاکستان شامل ہے،یہ غزہ کا مسئلہ حل کرنے کیلیے بلائی گئی تھی، کم و بیش بیس نکاتی امن معاہدہ تیار ہوا، پاکستان نے کھل کر اُس پر بات کی اور حصہ لیا۔
 انہوں نے کہا کہ فلسطین کے لوگوں کو بیان بازی نہیں امن، اپنا وطن چاہیے، انہیں احتجاج اور بیانات نہیں چاہیے، بیس نکاتی ایجنڈا جب پہلے مرحلے پر تسلیم ہوگیا ہے جس کے بعد اب احتجاجیوں کو امن قبول نہیں یا اسرائیل قبضہ ختم ہونا قبول نہیں ہے۔
 طلال چوہدری نے کہا کہ وفاق نے پُرامن احتجاج کی اجازت دی، ہر پروگرام کے ایس او پیز ہوتے ہیں، آج صبح جماعت اسلامی نے فیصل مسجد کے قریب ایک پروگرام کیا، اجازت لی گئی، ایس او پیز پورے کیے گئے، ٹی ایل پی نے کہاں اجازت مانگی ہے؟ کون سے ایس او پیز کی یقین دہانی کرائی ہے؟ ۔
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج اور موڈ ، کیا کرنا چاہ رہے تھے، ان کے سربراہ کی اشتعال انگیز اور گالی گلوچ والی تقاریر ہیں، فلسطین کے لوگوں کو امن ملنے سے آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ فلسطین کے لوگوں کی طرح پاکستان کو بھی امن چاہیے۔
 طلال چوہدری نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں گرفتاریاں ہوئیں، ملزمان کے قبضے سے پولیس پر حملہ کرنے کیلیے گولیاں، نمک، کیمیکل، ڈنڈے برآمد ہوئے، یہ ملزمان کارکنان کو آنسو گیس سے بچانے والے ماسک، شیل اور گنز اور دیگر برآمد ہونے والی چیزیں تقسیم کرتے۔
 انہوں نے کہا کہ میں یہ بات بہت وثوق سے کہتا ہوں کہ اسلام آباد میں پکڑے جانے والے لوگ ٹی ایل پی کے بنیادی عہدیدار اور کارکن ہیں۔ طلال چوہدری کے مطابق بھارتی جارحیت کے وقت بھی ٹی ایل پی نے قوم کی توجہ ہٹانے کیلیے مارچ کا منصوبہ بنایا تھا، اُس وقت انہیں بلاکر سمجھایا اور متنبہ کیا تھا۔
طلاق چوہدری نے کہا کہ غزہ امن معاہدہ پوری امت مسلمہ کی کامیابی ہے، جس کے تحت اسرائیل فوج غزہ سے نکلے گی، غاضب شکست کھا رہا ہے، وہ اپنے پلان میں ناکام رہا ہے، فلسطینی اسی طرح کا معاہدہ چاہتے تھے۔
 اُن کا کہنا تھا کہ ایسے میں غزہ کیلیے احتجاج کے نام پر فساد کا اعلان کیا جارہا ہے، خوراک، ادویات کیلیے نہیں بلکہ چندہ کیلوں والے ڈنڈے خریدے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: طلال چوہدری نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ اسلام ا باد احتجاج کے فلسطین کے ٹی ایل پی کے نام پر

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن