Juraat:
2026-07-24@07:34:38 GMT

لاہور ٹیسٹ، سلمان آغا اور رضوان کی ذمہ درانہ باریاں

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

لاہور ٹیسٹ، سلمان آغا اور رضوان کی ذمہ درانہ باریاں

پاکستان کی پوزیشن مستحکم ،اختتام پرپہلی اننگز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 313 رنز بنا لیے
امام الحق نروس نائنٹیز کا شکار ، عبداللہ شفیق 2 رن بنا کر آؤٹ،، سعود شکیل کوئی رن نہ بنا سکے

دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف پہلے دن کے اختتام پر پہلی اننگز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 313 رنز بنا لیے ہیں۔ پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پاکستان کی جانب سے عبداللہ شفیق اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا لیکن عبداللہ شفیق صرف 2 رن بنا کر آؤٹ ہو گئے۔پاکستان کی دوسری وکٹ 163 رنز پر گر گئی جب شان مسعود 76 رنز بنا کر آوٹ ہوئے، امام الحق نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے، سعود شکیل بھی بغیر کوئی رن بنائے پوویلین لوٹے۔ اس سے قبل لاہور میں کھیلے جارہے ٹیسٹ میچ میں 38 سالہ آصف آفریدی ڈیبیو نہیں کرسکے، ساجد خان وائرل فیور سے صحیتاب ہوکر ٹیم میں شامل ہوگئے۔ساجد خان وائرل فیور کے باعث لاہور ٹیسٹ سے قبل ٹیم کے ساتھ پریکٹس نہیں کرسکے تھے اور ٹیم منیجمنٹ بائیں ہاتھ کے سپنر نعمان علی کے ساتھ آصف آفریدی کو کھلانے پر آمادہ ہوگئی تھی۔پاکستان ٹیم دو سپیشلسٹ اسپنرز اور دو اسپیشلسٹ فاسٹ بولرز کے ساتھ میدان میں اتری۔ دوسری جانب جنوبی افریقی ٹیم کا بولنگ اٹیک تین سپیشلسٹ اسپنرز کے ساتھ ایک اسپیشلسٹ فاسٹ بولر پر مشتمل ہے۔ پاکستان پلیٔنگ الیون: امام الحق، عبداللہ شفیق، شان مسعود (کپتان)، بابر اعظم، سعود شکیل، محمد رضوان، سلمان آغا، دحسن علی، شاہین آفریدی، نعمان علی، ساجد خان جنوبی افریقا پلیٔنگ الیون: ٹونی ڈی زورزی، ریان رکلٹن، ویان مولڈر، ایڈن مارکرام (کپتان)، ٹرسٹان اسٹبس، ڈیوالڈ بریوس، کائل ویرین، سین متھوسمی، پرینلان سبرائین، کگیسو ربادا، سائمن ہارمر

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: عبداللہ شفیق امام الحق کے ساتھ

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے