data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور سندھ یونیورسٹی جامشورو کے درمیان صفائی کے منظم اور پائیدار نظام کے قیام کے لیے ایم او یو سائن کر لیا گیا۔ معاہدے کے مطابق کچرے کو الگ کرنے، ری سائیکلنگ کے طریقے متعارف کرانے اور طلبہ و عملے کے لیے آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ ایم ڈی سالڈ ویسٹ بورڈ طارق علی نظامانی نے کہا کہ تعلیمی ادارے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے صفائی نظام میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت یونیورسٹی، رہائشی علاقے اور ہاسٹلز سے کچرا روزانہ کی بنیاد پر علیحدہ جمع کر کے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے گا۔ ترکیہ کی کمپنی پاک الطاس اس منصوبے میں ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی فراہم کرے گی، جس سے اخراجات میں کمی اور کچرے کا مؤثر استعمال ممکن ہوگا۔ تقریب میں ایم پی اے ڈاکٹر سکندر علی شورو، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری، رجسٹرار پروفیسر اسرار، اور پاک الطاس کمپنی کے جنرل منیجر سمیت دیگر شخصیات شریک تھیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ جامعہ سندھ میں 45 ہزار طلبہ و عملہ موجود ہے اور معاہدے کے بعد صفائی، نقل و حمل اور ٹھکانے لگانے کا نظام جدید ٹیکنالوجی سے مزین ہوگا۔ جی ایم پاک الطاس کے مطابق روزانہ 11 ٹن کچرا اٹھایا جائے گا۔ معاہدے میں سینٹری ورکرز، منی ٹیپرز، ڈسٹ بن، GPS ٹریکنگ، آن لائن حاضری اور رپورٹنگ سسٹم شامل ہیں۔ ڈاکٹر سکندر علی شورو نے کہا کہ صفائی و ماحولیات کے مزید منصوبے دیگر اداروں تک بڑھائے جائیں گے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ حکومت کی نظر صرف ICCBS پر نہیں کراچی یونیورسٹی کی پوری زمین پر ہے، منعم ظفر

ملاقات میں مطالبہ کیا گیا کہ مجوزہ بل پر اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جائے، ICCBS کے انتظامی و قانونی ڈھانچے کو جامعہ کراچی کے کوڈ کی بنیاد پر چلایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی نظریں صرف کراچی یونیورسٹی کے ادارے ICCBS پر نہیں بلکہ کراچی یونیورسٹی کی سینکڑوں ایکٹر زمین پر ہے، جماعت اسلامی جامعہ کراچی کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ہے، ہم اساتذہ کے تمام مطالبات کی مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں، ICCBS کے حوالے سے مجوزہ قانون کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کریں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق کراچی میں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر غفران کی قیادت میں آئے ہوئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے سکریٹری معروف بن رؤف، وائس پریذیڈنٹ ڈاکٹر ندا،جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر طہ بن نیاز، ایگزیکٹیو کونسل ممبرز پروفیسر ڈاکٹر انتخاب الفت اور عاطف اسلم راؤ اور سینئر اکاؤنٹ آفیسر ایچ ای جے محمد علی کاظمی بھی شامل تھے۔ ملاقات میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کے شعبہ تعلیم کے انچارج ابن الحسن ہاشمی اور انجینئر صابر احمد بھی موجود تھے۔

ملاقات میں مطالبہ کیا گیا کہ مجوزہ بل پر اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جائے، ICCBS کے انتظامی و قانونی ڈھانچے کو جامعہ کراچی کے کوڈ کی بنیاد پر چلایا جائے۔ مطالبہ کیا گیا جامعہ کی زمینوں کے ریکارڈ کی جدید ڈیجیٹل میپنگ اور قانونی فائر وال کا نفاذ ہو، قبضہ مافیا کے خلاف مشترکہ آپریشن اور مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے خصوصی میکانزم بنایا جائے۔ ملاقات مںیں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم ادارے کے مفاد، اساتذہ کے حقوق اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر اپنا آئینی، اخلاقی اور ادارہ جاتی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں صاف پانی اور نکاسی آب نظام کیلئے 85.5 ارب روپے مختص کیے ہیں: وزیراعلیٰ سندھ
  • نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں ، دوسرے سے نکال دیں، وزیراعلیٰ سندھ
  • ٹنڈوجام، زرعی یونیورسٹی میں ایک روزہ مفت طبی کیمپ کا قیام
  • کراچی کا ٹریفک کا نظام 20 فیصد بھی درست نہیں ہوا، ضیاء لنجار
  • کراچی کا ٹریفک کا نظام 20 فیصد بھی درست نہیں ہوا: وزیرِ قانون سندھ ضیاء لنجار
  • سندھ حکومت کی نظر صرف ICCBS پر نہیں کراچی یونیورسٹی کی پوری زمین پر ہے، منعم ظفر
  • سندھ ایچ ای سی کے تحت نظام صحت کی بہتری، پائیدار پالیسی اقدامات پر دو روزہ کانفرنس
  • سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں دو سال بعد بھی وائس چانسلر کا تقررناہوسکا
  • زیادتی کے الزام میں عمر قید پانے والے ملزم کی سزا کالعدم قرار
  • سندھ حکومت کاوفات پانے والے ملازمین کی اولاد کو ملازمتیں دینے کا فیصلہ