حشد الشعبی نے داعش کا ایک سرغنہ گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق حراست میں لیا گیا شخص ایک دہشت گرد سیل کی قیادت کرنے کا ذمہ دار تھا، جس کا مقصد صوبے کے شہروں میں عدم تحفظ پیدا کرنا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ عراق کے صوبہ الانبار میں حشد الشعبی فورسز نے داعش تکفیری گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ صوبہ الانبار کے ایک سیکیورٹی ذریعے کے مطابق حشد الشعبی کو رمادی شہر کے مغرب میں ایک خصوصی آپریشن کے دوران داعش دہشت گرد گروہ کے ایک سینئر کمانڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل ملی۔ حشد الشعبی نے نے الرمانیہ کے علاقے میں گھات لگا کر حملہ کیا اور ہدف کی نشاندہی پر داعش کے کمانڈر کو گرفتار کر لیا۔
یہ آپریشن بغیر کسی جھڑپ کے انجام پایا، مذکورہ شخص کی ذاتی گاڑی کے معائنے کے دوران مختلف قسم کے چھپائے گئے ہتھیاروں کو دریافت کرکے ضبط کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حراست میں لیا گیا شخص ایک دہشت گرد سیل کی قیادت کرنے کا ذمہ دار تھا، جس کا مقصد صوبے کے شہروں میں عدم تحفظ پیدا کرنا تھا۔ عراقی سیکورٹی اور فوجی دستوں نے ملک کے پارلیمانی انتخابات میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ جانے کے ساتھ مختلف صوبوں میں گشت اور کلیئرنگ کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حشد الشعبی گرفتار کر
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک