پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے این اے ون چترال میں ضمنی الیکشن روک دیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے ممبر قومی اسمبلی عبداللطیف چترالی کی نا اہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

ایڈیشنل ڈی جی لاء الیکشن کمیشن خرم شہزاد نے کہا کہ اس کیس کو اگلے ہفتے تک رکھ لیں ہم اس پر دلائل دیں گے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے این اے ون چترال میں ضمنی الیکشن روک دیا۔
 

مزید :.

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، فافن

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے 23 نومبر کے ضمنی انتخابات سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، مبصرین نے پولنگ بوتھوں پر انتخابی عمل کو منظم اور پرامن پایا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزیاں سامنے آئیں، نتائج کی شفافیت میں خلا اور تشویشناک حد تک کم ووٹر ٹرن آؤٹ سامنے آیا۔

فافن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں پر کمزور عمل درآمد ایک مسلسل مسئلہ رہا، مشاہدے کے 238 پولنگ اسٹیشنوں کے قریب کم از کم 465 سیاسی جماعتوں کے کیمپس دیکھے گئے۔

رپورٹ کے مطابق مشاہدے کے 184 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی، 98 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں بیلٹ بکس کے تمام 4 مطلوبہ سیل درست حالت میں پائے گئے۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 96 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں سیکریسی اسکرین درست طور پر نصب تھیں، مبصرین نے پولنگ بوتھس پر پولنگ کو منظم اور پُرامن پایا۔

رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران نے بیلٹ پیپر جاری کرنے کے درست طریقہ کار پر عمل کیا، مشاہدے کے 29 فیصد بوتھوں پر پریذائیڈنگ افسران نے پہلے سے بیلٹ پیپر پر دستخط کیے ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مشاہدے کے 28 فیصد بوتھوں پر بیلٹ پیپر پہلے سے مہر شدہ تھے، یہ عمل غیرقانونی نہیں تاہم بیلٹ کے غلط استعمال کے خدشات بڑھا سکتے ہیں۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 6 مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا، مشاہدہ کے 19 فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 45 کو باہر بھی آویزاں نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 19 فیصد اسٹیشنوں پر فارم 46 پولنگ ایجنٹس کو نہیں دیا گیا، 43 فیصد مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس سے فارمز پر دستخط نہیں کروائے۔

فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے 23 فیصد تک کم رہا، صرف 1 حلقہ ایسا تھا، جہاں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ ریکارڈ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا، گنتی کے بعد انٹرویو کیے گئے تمام 137 پولنگ ایجنٹس نے گنتی کے عمل پر اطمینان ظاہر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • NA-18ضمنی الیکشن، الیکشن کمیشن نے دھاندلی الزامات سختی سے مسترد کردیئے
  • این اے 18: مخصوص عناصر ضمنی انتخابات کو متنازع بنا رہے ہیں، الیکشن کمیشن
  • الیکشن کمیشن نے این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخاب پر عائد کردہ الزامات مسترد کر دیے
  • ہری پور این اے 18 ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کے الزامات بے بنیاد قرار
  • ہری پور ضمنی انتخابات کے حوالے سے بے بنیاد الزامات غیر ضروری اور حقائق کے منافی ہیں، الیکشن کمیشن
  • بعض مخصوص عناصر حسب معمول حالیہ ضمنی انتخابات کو متنازع بنارہے ہیں، الیکشن کمیشن
  • پختونخوا حکومت کا ہری پور ضمنی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی انکوائری کا فیصلہ
  • ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، فافن
  • ضمنی انتخاب سے پشاور حملے تک
  • الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے