رکن قومی اسمبلی عبداللطیف چترالی کی نااہلی؛ پشاور ہائیکورٹ نے ضمنی الیکشن روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پشاور:
رکن قومی اسمبلی عبداللطیف چترالی کی نااہلی کے خلاف درخواست پر عدالت نے ضمنی الیکشن روک دیا۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون سے رکن عبداللطیف چترالی کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست کی سماعی پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے کی، جس میں عدالت نے این اے ون چترال پر ضمنی الیکشن روک دیا۔
دورانِ سماعت وکیل معظم بٹ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ عبدالاکبر چترالی کو اے ٹی سی عدالت سے سزا سنائی گئی۔ الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو نااہل کیا اور اب حلقے میں ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کیا ہے۔ درخواست گزار نے گرفتاری دے دی ہے، ان کی سزا کے خلاف اپیل ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔
ایڈیشنل ڈی جی لا الیکشن کمیشن خرم شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کو اگلے ہفتے تک رکھ لیں، ہم اس میں دلائل دیں گے۔
بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے این اے ون چترال میں ضمنی الیکشن پراسس کو روک دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ضمنی الیکشن روک دیا
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔