مدغاسکر میں فوجی قبضہ، کرنل مائیکل رینڈرینی رینا کو نیا سربراہِ مملکت نامزد
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
انتاناناریوو: افریقی جزیرہ ملک مدغاسکر میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جہاں فوج کے ایک دھڑے نے صدر آندری راجولینا کی حکومت ختم کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدغاسکر کی اعلیٰ آئینی عدالت نے صدر کے عہدے کو خالی قرار دیتے ہوئے فوجی افسر کرنل مائیکل رینڈرینی رینا کو عبوری سربراہِ مملکت کے طور پر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔
عدالتی بیان کے مطابق کرنل رینڈرینی رینا کو 60 دن کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، عدالت نے آئین کے آرٹیکل 53 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی صدر کا عہدہ خالی قرار دیا جائے تو 30 سے 60 دن کے اندر انتخابات لازمی ہیں۔
اعلیٰ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موجودہ صدر آندری راجولینا اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہے کیونکہ وہ ملک میں موجود نہیں ہیں اور ان کی غیر موجودگی اقتدار سے دستبرداری کے مترادف ہے۔
اس سے قبل کپساٹ (CAPSAT) کے سربراہ کرنل مائیکل رینڈرینی رینا کی قیادت میں فوجی اہلکاروں نے دارالحکومت انتاناناریوو کے صدارتی محل پر قبضہ کر کے اقتدار سنبھالنے کا اعلان کیا تھا۔
فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ملک کا اقتدار عارضی طور پر فوجی افسران کے ایک مشترکہ کونسل کے سپرد کیا گیا ہے جو آئندہ دو سال تک ملک کا انتظام سنبھالے گی۔ اس عبوری مدت میں نیا آئین تیار کرنے کے لیے ریفرنڈم بھی کرایا جائے گا۔
ادھر عدالت کے اعلان کے بعد ملک میں افراتفری کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، حکومت کی پانچ بڑی آئینی و سیاسی اداروں، اعلیٰ آئینی عدالت، الیکشن کمیشن، سینیٹ، انسانی حقوق کا دفاعی کونسل اور ہائی کورٹ آف جسٹس کو معطل کر دیا گیا ہے، قومی اسمبلی کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
خیال رہےکہ سیاسی بحران کی جڑ ستمبر سے جاری عوامی احتجاج ہے جو ابتدا میں پانی اور بجلی کے بحران پر شروع ہوا تھا مگر جلد ہی کرپشن اور صدر کے استعفے کے مطالبات میں تبدیل ہو گیا۔
صدر راجولینا نےگزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ان پرقاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد وہ محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے، بعض رپورٹس کے مطابق انہیں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی مداخلت کے بعد فوجی طیارے کے ذریعے فرانس منتقل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز