راولپنڈی: علیمہ خان سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔
انسداد دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان پر 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔
اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے مقدمے کی سماعت کی، جبکہ علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت پہنچیں۔
علیمہ خان سمیت 10ملزمان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں 26 نومبر ڈی چوک احتجاج کا مقدمہ درج ہے۔
علیمہ خان نے آج اینٹی ٹیررازم ایکٹ کی سیکشن 23 کے تحت عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلینج کیا۔
علیمہ خان کی دائر درخواست پر پراسیکیوشن نے دلائل دیے۔
دورانِ سماعت پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزمہ کی جانب سے عدالت کے دائرہ اختیار چیلنج کرنے سے ٹرائل نہیں روکا جاسکتا۔ مقدمے میں نامزد 9 ملزمان کو سزائیں ہوچکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی درخواست قابل سماعت نہیں۔
عدالت نے علیمہ خان سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
عدالت نے استغاثہ کے 5 گواہان کو بیانات قلمبند کرنے کے لیے 17 اکتوبر کو طلب کرلیا۔ علیمہ خان کی دائر درخواست پر وکلاء صفائی 17 اکتوبر کو دلائل دیں گے۔
واضح رہے کہ علیمہ خان پر کارکنان کو احتجاج پر اُکسانے اور کار سرکار میں مداخلت کا الزام ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علیمہ خان سمیت خان کی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: علیمہ خان کی اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر
سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور 3 دیگر سرکاری افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام 24 مارچ کے عدالتی حکم پر عملدرآمد میں ناکام رہے، جس کے تحت انہیں اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی یا ملاقات سے ذاتی انکار، مسئلہ ہے کیا؟
پی ٹی آئی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں تصدیق کی ہے کہ یہ درخواست عدالت کے حکم پر عمل نہ ہونے کے باعث دائر کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اظہر مشوانی کی جانب سے شیئر کی گئی درخواست کی نقل کے مطابق، اڈیالہ جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم، تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او راجہ اعجاز عظیم، اور وزارتِ داخلہ و پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:’زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں‘، عمران خان کے بیٹے کی عالمی برادری سے اپیل
درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ 24 مارچ 2025 کے اپنے حکم پر عمل نہ کرنے پر مذکورہ افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرے۔
مزید یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ عدالت قانون کے مطابق متعلقہ افسران کو سزا دے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل اسلام آباد ہائیکورٹ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ توہین عدالت علیمہ خان عمران خان وزارت داخلہ