data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ووٹ پاکستان کے سیاسی نظام کی اصل طاقت ہے، یہ طاقت آئین نے دی ہے اور آئین پارلیمنٹ نے دوتہائی اکثریت سے پاس کیا، سیاسی نظام نے اسے تسلیم کیا ہے، یہ سیدھا سادا نظام ہے کہ جسے عوام چاہیں وہ حکمران ہوگا اور حکمران اس ملک میں اللہ کے نائب کے طور پر، خوف خدا کے حقیقی تصوّر کو ذہن میں، دل میں رکھ کر حق حکمرانی استعمال کرے گا۔ وہ شیطان کی طرف نہیں دیکھے گا، نہ اس کا پیروکار بنے گا، مگر کیا ہمیں اپنے ملک کے سیاسی نظام میں یہ صفت کہیں نظر آرہی ہے؟ یہ صفت اس لیے نظر نہیں آرہی کہ ہماری سیاست میں گھس بیٹھیے بہت ہیں، اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ابتداء تو ایوب خان نے کی پھر ایوب خان کا قافلہ رکا نہیں، آہستہ آہستہ اس کے چھاتا بردار دستے سیاسی جماعتوں میں اُترنا شروع ہوئے اور آج پورا معاشرہ ان کے ہاتھوں یرغمال ہے، ایسی صورت میں آئین کہاں کھڑا ہے اس کی اصل روح اب کیا سوچ رہی ہے؟ عوام بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ ملک کے سیاسی نظام میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟، آر ٹی ایس بیٹھنا، فارم سنتالیس یہ سب عوام کے جمہوری حق اور رائے کی توہین ہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ حق حکمرانی عوام کے پاس نہیں ہے ان کے مقدر میں کرسیاں لگانا، دری بچھانا اور راہنمائوں کی گاڑیوں کے پیچھے بھاگنا یا پائیدان پر لٹکنا ہی رہ گیا ہے۔
ملک کی سیاسی جماعتوں کی حالت کچھ اس سے مختلف بھی نہیں ہے ابھی ابھی بارہ اکتوبر گزرا ہے، 12 اکتوبر کو اگر1999 سے جوڑا جائے تو اس روز نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا، تب ملک میں دو بڑی اپوزیشن تھیں ایک جماعت اسلامی اور دوسرا جی ڈی اے، بے نظیر بھٹو، نواب زادہ نصراللہ خان سمیت متعدد مذہبی جماعتیں بھی اس اتحاد میں شامل تھیں، عمران خان اور طاہر القادری بھی اس اتحاد کا حصہ رہے، دونوں اس لیے اتحاد سے نکل گئے کہ ان دونوں کو اقتدار مل جانے کے بعد جی ڈی اے نے وزیر اعظم بنانے کا وعدہ نہیں کیا تھا، ہر حکومت کیوں کامیاب رہتی ہے اور اپوزیشن کیوں کمزور رہتی ہے وجہ یہی ہے کہ اپوزیشن میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے امیدواروں کی لمبی قطار ہوتی ہے حالانکہ اگر کسی کو دانش مندانہ بات کہنی ہے تو ایک ہی بندہ کافی ہوتا ہے۔ جی صرف ایک ہی بندہ… اگر یہ دانش مندی کی بات کردے تو لاکھوں پر بھاری ہوتا ہے، ذرا سنیے وہ کیسے؟
ایک دُور دراز کے گاؤں میں ایک اعلیٰ پائے کے مقبول سیاست دان کا جلسہ تھا، اسے کئی سو کلو میٹر کا سفر کرکے وہاں پہنچنا تھا، بہر حال وہ پہنچا، جب اسٹیج پر چڑھا تو دیکھا کہ منتظمین پریشان اور پنڈال ویران، صرف ایک آدمی پنڈال میں موجود تھا، اس اکیلے شخص کو دیکھ کر سیاست دان مایوس بھی ہوا اور پریشان بھی، کہا کہ اگر یہاں ایک ہی آدمی تقریر سننے کے لیے آیا ہے تو پھر کیا تقریر کی جائے، یا نہ کی جائے، کچھ فیصلہ نہیں کر پارہا ہوں، یہ بات سن کر وہ آدمی بولا، اگر میرے پاس تیس جانور ہوں اور ان میں سے انتیس بھاگ جائیں تو کیا میں رہ جانے والے جانور کو چارہ نہ ڈالوں؟ سیاست دان نے جب یہ بات سنی تو ماتھے پر پسینہ چھوٹ گیا کہ اتنی گہری بات ایک عام آدمی نے کہہ دی، جواب سُن کر سیاست دان صاحب اسٹیج پر لگے ہوئے ڈائس پر پہنچے اور مائیک سنبھالا، سینہ پھلایا اور لمبی سانس بھری اور ہوگئے شروع، جو منہ میں آیا بولے جارہے ہیں، تاہم انہوں نے اتنا خیال رکھا کہ جاپان اور جرمنی کی سرحدوں کو آپس میں نہیں ملایا، یہ نہیں کہا کہ سال میں بارہ موسم ہوتے ہیں، پورے دو گھنٹے تک پر جوش تقریر کی، اور تقریر کے بعد اسٹیج سے نیچے اترا اور اس آدمی کے پاس گیا کہا کیسی تھی تقریر؟ اس آدمی نے جواب دیا اگر جانور بھاگ گئے ہیں اور کیا میں بچ جانے والے ایک جانور کو باقی تمام کا چارہ بھی ڈال دوں؟ کیا یہ مناسب ہوگا؟
بس یہی حال ہماری سیاست کا ہے، جو بھی اقتدار میں آتا ہے وہ عام انسان کی نبض سے کٹ جاتا ہے، اس کی سوچ سے کٹ جاتا ہے، اسے کوئی علم نہیں ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی کے مسائل کیا ہیں؟ جب وہ اقتدار کے نشے میں فیصلہ کرتا ہے تو پھر اس ملک میں 8 اکتوبر 1958 بھی آتا ہے اور اس ملک میں 5 جولائی1977 بھی آتا ہے اور 12 اکتوبر 1999 بھی آتا ہے، پھر اقتدار سے محروم کی جانے جماعت، اس کا ہامی میڈیا، اس کی ہامی رائے عامہ سب لکیر پیٹتے ہیں، سیاسی جماعتوں میں ایسے فیصلے تب ہوتے ہیں جب ان میں ’’گھس بیٹھے‘‘ آ دھمکتے ہیں اور وہ فیصلوں پر حاوی ہوجاتے ہیں، گھس بیٹھیے سیاسی جماعتوں کی روایات سے نابلد ہوتے ہیں، لیکن پکڑے بھی جاتے مگر تب تک یہ بہت نقصان کر چکے ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) میں کون گھس بیٹھے ہیں ہمیں تو علم نہیں، یہ جانیں اور نواز شریف جانیں، ہمیں اس سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔ 12 اکتوبر کے حوالے سے سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ اگر جنرل جہانگیر کرامت، ہمت کرتے اور پرویز مشرف کا کورٹ مارشل کردیتے تو اس ملک میں ’’بارہ اکتوبر‘‘ کبھی نہ آتا، یہ کورٹ مارشل کیوں نہ ہوا! اس کی کہانی پھر کبھی سہی…
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں سیاسی نظام اس ملک میں سیاست دان ہوتے ہیں آتا ہے ہے اور
پڑھیں:
عراق انتخابات 2025ء، ایک سیاسی تجزیہ
اسلام ٹائمز: عراق کے حالیہ انتخابات اور اسکے نتائج اس امر کے آئینہ دار ہیں کہ عراقی سماج فکری، سیاسی، مسلکی اور نسلی طور پر ہی منقسم نہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی تقسیم کا شکار ہے۔ عراق معاشی طور پر غیر مستحکم، داخلی سکیورٹی اور غیر ملکی مداخلت جیسے مسائل سے دوچار ہے، جسے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ محسوس بھی کر رہا ہے اور اسکے خاتمے کیلئے کوشاں بھی ہے۔ تبدیلی کی یہ سوچ اگر اہلسنت، کرد اور شیعہ بلاک میں ایک جیسی ہو تو عراق کے سیاسی نظم کیلئے بہت مفید ہے، تاہم اگر فقط شیعہ بلاک ایسا سوچ رہا ہے تو اسکا واضح نتیجہ عالمی کرداروں میں سے ایک کردار کے تسلط پر منتہی ہوگا۔ ایسے حالات سے دوچار اکثر معاشرے انقلابات کیلئے ہموار زمین ہوتے ہیں۔ اکثر آمر ایسے حالات پر سواری کرتے ہوئے معاشروں پر مسلط ہوتے ہیں۔ تحریر: سید اسد عباس
عراق پر 2003ء میں امریکی حملے، صدام حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والی جمہوری حکومت کا سیاسی سفر حالیہ انتخابات 2025ء کے بعد ایک نئے دور میں داخل ہوچکا ہے۔ آئین کی تشکیل، فرقہ وارانہ تنازعات کا حل، داعش کا ظہور اور خاتمہ، خارجہ طاقتوں کی دخل اندازی اور مسلسل حکومت سازی کے بحران جیسے مشکل مراحل اس سفر کے دوران عراقی عوام اور قیادت نے دیکھے۔ ان مسائل کے ساتھ جڑے سماجی مسائل بے روزگاری، مہنگائی، کرپش، بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم فراہمی وغیرہ اس پر مستزاد ہیں۔ حالیہ انتخابات نے ایک امر کو واضح کیا کہ عراق اب بھی ایران اور امریکہ کے مابین سیاسی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا، تاہم اس کوشش میں داخلی کشمکش، طاقتور گروہوں کے اثرات اور بداعتمادی جیسے عوامل مسلسل رکاوٹ بن رہے ہیں۔
عراق کا جدید سیاسی نظام 2005ء کے آئین کے تحت قائم ہوا ہے۔ اس آئینی ڈھانچے میں وزیراعظم شیعہ ہوتا ہے،صدر کرد ہوتا ہے اور سپیکر اہل سنت مکتب فکر سے ہوتا ہے۔ یہ طاقت کی تقسیم بظاہر متوازن نظر آتی ہے، مگر عملی طور پر اس نے فرقہ وارانہ کوٹہ سسٹم کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں قومی منشور کے بجائے فرقہ وارانہ نمائندگی پر توجہ دینے لگتی ہیں، ایسے سسٹم میں خارجی قوتوں کو دخل اندازی کرنے کا بھرپور موقع میسر آتا ہے۔ امریکہ اہل سنت عربوں، کردوں اور ریاستی اداروں کی تشکیل نو کے ذریعے اپنا رسوخ قائم رکھتا ہے، جبکہ ایران کا میدان رسوخ عسکری گروہ اور مقاومتی تنظیمیں ہیں۔ 2006ء سے 2018ء تک عراق دہشت گردی، داعش کے عروج، جنگوں، فرقہ وارانہ فسادات اور معاشی بحرانوں سے دوچار رہا، جس کے سبب سیاسی سفر عملاً معطل رہا۔
2021ء کے انتخابات عراق کے لیے اہمیت رکھتے تھے، کیونکہ یہ عوامی احتجاج کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات تھے۔ عوامی احتجاجی لہر کے نتیجے میں حکومت گرا دی گئی، انتخابی اصلاحات کی گئیں اور قبل از وقت انتخابات کرائے گئے۔ 2021ء میں مقتدیٰ صدر کی جماعت پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ٹرن آؤٹ 41 فیصد رہا، جو سیاسی و عوامی بیزاری کی علامت سمجھا گیا۔ اس انتخاب میں آزاد امیدواروں اور تشرین تحریک کے کارکنان نے کچھ نشستیں حاصل کیں، تاہم حکومت سازی 11 ماہ تک تعطل کا شکار رہی۔ مقتدیٰ الصدر نے اکثریتی حکومت بنانے کی کوشش کی، تاہم ان کو وہ مینڈیٹ حاصل نہ تھا کہ وہ تنہاء حکومت بنا سکتے۔ دیگر گروہوں سے ان کا فکری، مسلکی اور نسلی اختلاف آڑے آیا۔ نتیجتاً مقتدیٰ صدر نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو مستعفی ہونے کا کہا، جو عراق کی سیاسی تاریخ کا غیر معمولی اقدام تھا۔
2025ء کے انتخابات کے نتائج، عراق میں تین واضح بلاکس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مزاحمتی اور منظم بلاک، اس بلاک میں بدر آرگنائزیشن (ہادی العامری)، عصائب اہل الحق/صادقون، نوری المالکی کا قانونِ ریاست اور حشد الشعبی سے وابستہ سیاسی گروہ شامل ہیں۔ اس بلاک نے اس انتخاب میں بھی نشستوں کی تعداد اور سیاسی اثر کے لحاظ سے واضح برتری حاصل کی۔ یہ بلاک عراق کی سلامتی کی پالیسی، اقتصادی ترجیحات، خارجہ تعلقات، شام اور خطے کی سکیورٹی حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، تاہم ان کا اثر عراق کو بعض خطوں میں امریکہ، اہلسنت اور کردوں سے تناؤ کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
دوسرا اہم بلاک اہل سنت مکتب اور کردوں کا بلاک ہے، جس میں صلاح الدین، محمد الحلبوسی، خمیس الخنجر سمیت دیگر اہم اہل سنت قائدین کی جماعتیں شامل ہیں۔ اس گروہ نے مرکز سے اختیارات لینے، ملکی اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور ترقی کے وعدوں پر انتخابات لڑے، جو واضح طور پر امریکی لائن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مسعود بارزانی نے اربیل اور دهوک میں اپنی اکثریت برقرار رکھی۔ یہ بھی عراقی سیاست میں امریکی رسوخ کو برقرار رکھنے کا ایک اہم عامل ہیں۔ تیسری اہم قوت جو عراقی سیاست میں ظاہر ہو رہی ہے، وہ جدید قوم پرستی کی تحریک ہے، جو اگرچہ فی الحال منتشر ہے، تاہم اس نے موجودہ انتخابات میں قوت حاصل کی ہے۔ اس کا آغاز تشرین تحریک سے ہوا۔
یہ گروہ عراق کے لیے متوازن خارجہ پالیسی، مسلح گروہوں کے رسوخ کے خاتمہ، داخلی سیاست میں خارجہ قوتوں کی دخالت کے خاتمہ، معاشی بدعنوانی پر گرفت، ریاستی اداروں کی خود مختاری جیسے اہداف کے لیے سرگرم عمل ہے۔ فی الحال یہ آواز منظم ڈھانچے، سیاسی قیادت، وسائل اور انتخابی اتحاد سے محروم ہے۔ یہی سبب ہے کہ حالیہ انتخابات میں کوئی نمایاں کامیابی نہ حاصل کرسکی، مگر سماجی سطح پر اس کا اثر بڑھ رہا ہے۔ حالیہ انتخابات میں مقتدیٰ الصدر کی جماعت کا بائیکاٹ اور غیر موجودگی، 2025ء انتخابات کا سب سے بڑا سیاسی واقعہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کا سیاسی نظام بدعنوانی پر مبنی ہے نیز شفاف نہیں ہے۔
ایک طرح سے وہ مزاحمتی گروہوں کے رسوخ کے بھی مخالف ہیں، ان کا انتخابی کمیشن پر اعتماد نہیں، وہ چاہتے ہیں کہ عراق کو غیر ملکی اثرات کے رسوخ سے باہر نکالا جائے۔ اگر صدر انتخابات میں شریک ہوتے تو شائد نتائج کا ڈی این اے مختلف ہوتا۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو تشرین تحریک اور مقتدیٰ صدر کا بیانیہ کافی حد تک ہم آہنگ ہے۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ جو ظاہر کیا گیا، حقیقی نہیں ہے، ملک میں اہل ووٹرز کی ایک بڑی تعداد رجسٹرڈ ہی نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ ووٹوں کی خریداری، سیاسی دباؤ اور بڑی کمپینز کے دعوے بھی سامنے آرہے ہیں۔
عراق کے حالیہ انتخابات اور اس کے نتائج اس امر کے آئینہ دار ہیں کہ عراقی سماج فکری، سیاسی، مسلکی اور نسلی طور پر ہی منقسم نہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی تقسیم کا شکار ہے۔ عراق معاشی طور پر غیر مستحکم، داخلی سکیورٹی اور غیر ملکی مداخلت جیسے مسائل سے دوچار ہے، جسے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ محسوس بھی کر رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے کوشاں بھی ہے۔ تبدیلی کی یہ سوچ اگر اہل سنت، کرد اور شیعہ بلاک میں ایک جیسی ہو تو عراق کے سیاسی نظم کے لیے بہت مفید ہے، تاہم اگر فقط شیعہ بلاک ایسا سوچ رہا ہے تو اس کا واضح نتیجہ عالمی کرداروں میں سے ایک کردار کے تسلط پر منتہی ہوگا۔ ایسے حالات سے دوچار اکثر معاشرے انقلابات کے لیے ہموار زمین ہوتے ہیں۔ اکثر آمر ایسے حالات پر سواری کرتے ہوئے معاشروں پر مسلط ہوتے ہیں۔