data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حکومت کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود زمینی حقائق یکسر مختلف تصویر دکھا رہے ہیں۔ پچھلے چار سال معیشت کی کارکردگی کے اعتبار سے بدترین سال ثابت ہوئے ہیں۔ ایک جانب حکومت کوئی معاشی حکمت عملی مرتب کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے تو دوسری جانب ماحولیاتی تبدیلیوں، سیلاب اور حکومت کی بد انتظامی کی وجہ سے حالات مزید ابتری کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کے اعدادو شمار کو بین الاقوامی ادارے برملا جھوٹ کا پلندہ قرار دے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مقرر کردہ اہداف کے حصول میں ناکامی خود آئی ایم ایف کی جانب سے ہدف تنقید بنا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ گورننس کے معاملات میں بہتری لائی جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاست دان اور سرکاری ملازمین بشمول فوجی افسران اپنے اثاثے پبلک کریں۔ ساتھ ساتھ نج کاری کے عمل میں سستی بھی بین الاقوامی اداروں کے نزدیک قابل تشویش امر ہے۔ حکومت پر بیوروکریسی اور سرکاری اداروں کو کم کرنے کے لیے بھی دباؤ ہے لیکن اندرونی اسٹیک ہولڈرز اس راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے چھوٹے صوبے بنانے اور صوبائی بجٹ کم کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن چھوٹے صوبے بنانا سیاست دانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ حکومت کی تحویل میں چلنے والے سرکاری اداروں کو ہر سال بجٹ سے براہ راست چھے سو ارب روپے اپنے پاؤں پر کھڑا رہنے کے لیے ادا کیے جاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی عقل مندی کا سودا نہیں ہے۔ وہ اقدام جو کوئی دور اندیش حکومت کو خود اٹھانے چاہئیں وہ بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ڈائریکٹرز ہماری حکومت کو سجھاتے، سکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔ پھر بھی یہ نہ سیکھنا چاہتے ہیں۔ سمجھنا چاہتے ہیں اور نہ عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں۔
آئی ایم ایف کا بے لچک موقف حکومت کے لیے دردِ سر کا باعث تو ہے ہی ساتھ میں یہ پریشانی بھی ہے کہ اگر شرائط پوری نہ کی گئیں تو ہرجہ و خرچہ کیسے پورے کیے جائیں گے؟ پاکستان کے سرکاری اعدادو شمار پر تسلسل کے ساتھ شک و شبہے کا اظہار باعث شرم و ندامت ہے۔ بہت سے سرکاری ادارے حکومتی امداد کے باوجود براہ راست قرضے بھی لیتے ہیں جو کہ درحقیقت حکومت کا بجٹ خسارہ ہے۔ گردشی قرضہ جو کہ پچھلے سال انتیس سو ارب پر پہنچا ہوا تھا اسے قرض لے کر سترہ سو ارب پر پہنچا کر حکومت نے اداروں کو تو ادائیگی کر دی ہے لیکن قرض کا بوجھ اپنے سر پر لے لیا ہے۔ بارہ سو ارب روپے کا پہاڑ کھڑا کر کے حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے لیے پانچ سو ارب روپے میں کے الیکٹرک کو خریدنے کی راہ ہموار کی ہے۔ اب اگر حکومت شادیانے بجائے کہ وہ سعودی سرمایہ کاری ملک میں لے کر آئے ہیں تو اس پر کوئی سنجیدہ آدمی ہنسے گا یا روئے گا؟ آئی ایم ایف نے پچھلے دو سال بشمول موجودہ سال کے پاکستان کے گیارہ ارب ڈالر کے تجارتی خسارے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کیونکہ پاکستان ریونیو آٹومیشن اور پاکستان سنگل ونڈو آپریشن کے اعدادو شمار آپس میں مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ پاکستان کی درآمدات کو برآمدات کے مقابلے میں کم ظاہر کیا گیا ہے جس سے تجارتی خسارہ کم نظر آتا ہے۔ یہ اعداد اگر صحیح کیے گئے تو پچھلے دو سال کی جی ڈی پی کم ہوکر منفی میں چلی جائے گی اور اس سے پچھلے سال یہ شرح منفی ہی تھی۔ حکومت کے فراہم کردہ افراط زر اور کنزیومر پرائس انڈیکس پر بھی آئی ایم ایف نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ چائنا کا قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کے اعداد بھی واضع طور پر سامنے نہیں آتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق چائنا کا قرض آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضے سے بھی زیادہ ہے۔ پچھلے چار سال میں حکومت نے بمشکل ڈھائی فی صد سالانہ کی شرح نمو کا دعویٰ کیا ہے جو کہ درست اعدادو شمار کی بنیاد پر منفی میں چلا جائے گا۔
افراط زر کی شرح بھی حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس بات کو تقویت یوں بھی ملتی ہے کہ حکومت شرح سود میں کمی سے مسلسل انکاری ہے اور اگر شرح سود میں کمی نہ کی گئی تو ملک میں معاشی ترقی کیوں کر ممکن ہوگی؟ حکومت کا اصرار ساڑھے چھے فی صد بیروزگاری کی شرح پر ہے لیکن بہت سے معیشت دان اس بات سے متفق ہیں کہ یہ بارہ فی صد سے کم کسی صورت میں نہیں ہے۔ پچھلے تین سال میں پاکستانیوں کے بیرون ملک منتقل ہونے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ اس بات کو مزید تقویت دیتی ہے۔ اس وقت پاکستان کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانی باعث رحمت ہیں جو کہ روزانہ چالیس ارب روپے پاکستان منتقل کرتے ہیں۔ اگر یہ رقم پاکستان نہ آئے تو ایک چوتھائی آبادی فاقے سے مر جائے۔ مزید برآں یہ کہ اس سال کے سیلاب کے بعد پاکستان کی آدھی آبادی خط غربت کے نیچے چلی گئی ہے۔ پاکستان میں روزگار کے ذرائع بمشکل ایک چوتھائی آبادی کے لیے کافی ہیں۔ ابن الوقت سیاست دانوں، نااہل بیوروکریسی اور خود غرض اشرافیہ نے پاکستان کو اس حال میں پہنچا دیا ہے کہ کوئی امید بر نہیں آتی ہے۔ کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے اور بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔
پاکستان کی ہندوستان پر حالیہ جنگ میں فتح کے بعد بین الاقوامی برادری کے مثبت ردعمل سے ایک امید ہو چلی تھی کہ پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور عوام کے لیے خوشحالی آئے گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ یہ سنہری موقع بھی ہمارے وزیر اعظم اور ان کے متعلقین کی نشستند، گفتند، برخاستند کی نذر ہو گیا۔ ہواؤں میں اُڑنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ ہمارا فوکس بیرونی معاملات پر اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ اندرون ملک کیا ہو رہا ہے یہ دیکھنے کی کسی کو فرصت ہی نہیں ہے۔ معاہدوں کے بعد ان پر عمل درآمد ہو بھی رہا ہے یا نہیں اس کی کسی کو فکر ہی نہیں ہے۔ دستخط کی تقریب ہوگئی۔ میڈیا میں ہلہ گلہ ہو گیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ جب ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھو ملک میں چاروں طرف جنگی حالات اور صوبوں میں ابتری نظر آتی ہے۔ اس صورتحال میں کتنے ہی معاہدوں پر دستخط کیوں نہ کر لیے جائیں کوئی سرمایہ کاری ملک میں نہ آ سکتی ہے اور نہ آئے گی۔ حالات تو اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مقامی سرمایہ کار بھی ہاتھ کھینچ رہے ہیں تو بیرون ملک سے اس ملک میں سرمایہ لگانے کون آئے گا؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی ا ئی ایم ایف پاکستان کی حکومت کے ارب روپے نہیں ہے رہے ہیں ملک میں ا تی ہے نہیں ا ئے ہیں کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس