سینئر رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ حکومت بغیر کسی جرمانے کے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کرے تاکہ کاروباری برادری کو سہولت ملے، یہ اقدام نہ صرف حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دے گا بلکہ ملکی معیشت کے استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ سامنے آگیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ تاریخ 15 اکتوبر سے بڑھا کر 30 نومبر کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے حکومت سے سالانہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے وزیراعظم، وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر سے بڑھا کر 30 نومبر کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات اور غیر معمولی مون سون بارشوں کے باعث کاروباری طبقہ اپنے مالی معاملات بروقت مکمل نہیں کر پایا، اس لیے حکومت کو تاجروں کو ریلیف فراہم کرنا چاہیئے۔ رہنما ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ حکومت بغیر کسی جرمانے کے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کرے تاکہ کاروباری برادری کو سہولت ملے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دے گا بلکہ ملکی معیشت کے استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع فاروق ستار نے کہا کہ

پڑھیں:

کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک

علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔

محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔

محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ