مردان میں اہم سیاسی شخصیت کی سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ، فیکٹری سیل
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایف بی آر نے مردان میں ایک سگریٹ فیکٹری پر چھاپے کے دوران غیر قانونی سگریٹ کے 62 کارٹن ضبط کر کے فیکٹری کو سیل کردیا۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق ان لینڈ ریونیو کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ایسے سگریٹ برآمد کیے جن پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر فیکٹری کو فوری طور پر بند کر دیا گیا اور مالکان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیل کی گئی فیکٹری سینیٹر دلاور خان کی ملکیت ہے، اور سیاسی دباؤ کے باوجود کارروائی کی گئی۔
ایف بی آر نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر غیر قانونی طور پر سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں جاری ہیں اور کسی قسم کا سیاسی اثر و رسوخ قبول نہیں کیا جا رہا۔
ادھر سینیٹر دلاور خان کا کہنا ہے کہ وہ گاؤں میں موجود نہیں تھے اور فیکٹری پر چھاپے کے بارے میں انہیں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔