سہیل آفریدی کےعشق کا بھوت خود عمران خان اتاریں گے، سعدرفیق
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
لاہور:پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ وقت آنے پر نو منتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے عشق کا بھوت خود عمران خان ہی اتاریں گے۔
اس حوالے سے اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ شیر افضل مروت سے پہلی اتفاقیہ ملاقات چند ماہ پیشتر اسپیکر چیمبر میں ہوئی، وہاں دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔
شیر افضل مروت جا رہے تھے اور میں آ رہا تھا، مصافحہ کے بعد میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ب ±را نہ مانیں تو ایک بات کہ دوں، جس پر وہ بولے ضرور تو عرض کیا جب عمران خان جیل سے واپس آئیں گے تو جس شخص کو سب سے پہلے پی ٹی آئی سے نکالیں گے وہ شخصیت آپ ہوں گے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ دو ماہ نہیں گزرے تھے کہ پارلیمنٹ لاجز میں گزرتے ہوئے پھر آمنا سامنا ہوگیا، تب تک عمران خان شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال چ ±کے تھے، ہم نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی ہنسنا شروع کردیا۔
شیر افضل بولے آپ کی پیشگوئی وقت سے پہلے ہی پوری ہو گئی، میں نے پوچھا اتنا جلدی کیسے ہوا؟ تو انہوں نے بتایا میرا اخراج عمران خان کی ہمشیرہ اور اہلیہ کی باہمی گروپنگ نہ جوائن کرنے کا شاخسانہ ہے۔
خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ ’مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ بھولے بادشاہ لگتے ہیں، وہ بھی عشقِ عمران میں مبتلا ہیں۔
یہ کم بخت مڈل کلاسیے سیاسی کارکن اسٹریٹ فائٹر ہوتے ہیں، لیڈر اور جماعت کے عشق میں لڑتے لڑتے تنِ تنہا تلوار سونت کر مخالف کی صفوں میں گھ ±س جاتے ہیں اور سب سے پہلے مارے جاتے ہیں لیکن اگر خوش قسمتی سے بچ کر واپس آ جائیں تو اپنے مار دیتے ہیں۔
ان غیر منظم اور نیم جمہوری جماعتوں میں سازشی جیتتے ہیں تلخ سچ بولنے والے نہیں، مڈل کلاسیوں کو تھپکی لڑنے کےلیے دی جاتی ہے حکمرانی کےلیے نہیں، وقت آنے پر سہیل آفریدی کے عشق کا بھوت خود عمران خان ہی اتاریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: شیر افضل
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔