بھارتی اشتعال انگیزی سے امن کوسنگین خطرات ہیں،پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
دنیا بھارت کو سرحد پار دہشت گردی کا حقیقی چہرہ اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز تسلیم کرتی ہے
غیرضروری گھمنڈ اور غیر مناسب بیانات شہرت پر مبنی جارحانہ ذہنیت کو جنم دے سکتے ہیں
ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ دنیا بھارت کو سرحد پار دہشت گردی کا حقیقی چہرہ اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز تسلیم کرتی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بھارتی متنازع فوجی بیانات پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ معرکہ حق کے 5 ماہ گزر جانے کے باوجود بھارت میں اسمبلی انتخابی مہم کے پسِ منظر میں بھارتی فوجی قیادت وہی روایتی، من گھڑت اور اشتعال انگیز پروپیگنڈوں کو دہرا رہی ہے جنہیں وہ ہر ریاستی انتخاب سے قبل دہرانا شروع کر دیتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ایک ایٹمی قوت کی فوجی قیادت کا سیاسی دباؤ میں آ کر غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرنا نہایت افسوس ناک امر ہے، ان بیانات نے بھارتی عوام اور بین الاقوامی برادری کے سامنے بھارتی عسکری مشین کو مزاح کا نشانہ بنا دیا ہے۔ترجمان پاک فوج نے بیان میں کہا ہے کہ غیرضروری گھمنڈ اور غیر مناسب بیانات شہرت پر مبنی جارحانہ ذہنیت کو جنم دے سکتے ہیں، جو جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج لا سکتے ہیں، بھارتی فوجی پریس ریلیز میں موجود تضادات اتنے واضح ہیں کہ ان کا جواب دینا موزوں نہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی قیادت تاریخ کو اپنی من پسند شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے، بے بنیاد فلمی مناظر ترتیب دے رہی ہے، بھارت یہ قبول کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے کہ معرکہ حق میں اسے فیصلہ کن شکست ہوئی اور اس کی غلط بیانی بے نقاب ہوئی ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ دنیا نے بھارت کو سرحد پار دہشت گردی کا حقیقی چہرہ اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے جو مہم جوئی اور غلبہ پسند پالیسیوں پر اڑان بھر رہا ہے اور جس کا نقصان اس کے اپنے عوام اور ہمسایہ ممالک دونوں کو پہنچ رہا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی قوم اور اس کی مسلح افواج ملکی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طرح اہل اور مصمم عزم ہیں، کسی بھی جارحیت کا جواب تیز، فیصلہ کن اور شدید انداز میں دیا جائے گا جو آئندہ نسلوں کے لیے یادگار رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر پاک فوج
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔