عمران خان نے احتجاج کی کال دیدی،مرید کے واقعے پرتحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
جوڈیشل کمیشن قائم کرکے آئی جی اسلام آباد اور محسن نقوی کو شامل کیا جائے، امن صرف بات چیت سے آتا ہے،ہم اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ ہوگئے ہیں،سب کو اس ملک کیلئے کھڑا ہونا چاہیے
پیرول پر رہا کیا جائے، پاک افغان کے درمیان امن کراسکتا ہوں،دو مسلم اور ہمسایہ ممالک میں لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں، تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے،بانی کی پیشکش
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے مرید کے واقعے پر جمعہ کو پشاور میں احتجاج کی کال دے دی اور کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم کرکے آئی جی اسلام آباد اور محسن نقوی کو شامل کیا جائے۔توشہ خانہ 2 کیس سماعت کے دوران اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد علیمہ خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں ان کی بہن نورین نیازی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے لاہور میں قتل عام کی مذمت کی ہے، تین سال میں چار بڑے سانحات ہوچکے ہیں، پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا کشمیر میں اور چوتھا لاہور مریدکے میں پیش آیا ہے۔نورین نیازی کے مطابق عمران خان نے کہا ہے ہماری اپنی فوج، پولیس اور رینجرز اپنے عوام کو مار رہی ہے، آئی جی اسلام آباد اور محسن نقوی کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور انہوں نے خیبرپختونخوا میں جمعہ کو احتجاج کی کال دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی ہے کہ ان حادثات پر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کیا جائے، ہم اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ ہوگئے ہیں، سب کو اس ملک کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔نورین خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، افغانوں کو تین نسلوں کے بعد پاکستان سے واپس بھیجا گیا ہے، ڈکٹیٹرز کبھی امن نہیں لاتے، بانی نے آفر کی ہے انہیں پیرول پر رہا کیا جائے تو وہ افغانستان سے بات کرکے مسئلہ حل کرکے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی نے امن کو سیاسی استحکام سے جوڑ دیا اور کہا امن صرف بات چیت سے آتا ہے۔اس موقع پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں آج ہمارے وکلا نے دلائل دیے اور عدالت سے پیر کی تاریخ مانگی تھی، کل ہائی کورٹ میں القادر کیس کی تاریخ بمشکل سے ملی ہے لیکن عدالت نے پیر کی تاریخ نہیں دی اور کل سماعت رکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری نظر میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی اور بشریٰ بی بی بے گناہ ثابت ہوچکے ہیں، ہمارا خیال ہے جج صاحب اب اس کیس میں فیصلہ سنانے جارہے ہیں۔علیمہ خان نے کہا کہ 22 نومبر 2024 کو ہم نے احتجاج سے متعلق بانی کا پیغام دیا تھا، اس پر اے ٹی سی پنڈی نے میرے اوپر فرد جرم عائد کی ہے، فرد جرم پر نہ میرا دستخط ہے، نہ میرا انگوٹھا ہے، ہم عدالت سے درخواست کریں گے کہ اس پر نظر ثانی کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی ا ئی کیا جائے نے کہا
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔