حسینہ واجد نے ایسے جرائم کیے کہ 1400 بار موت کی حقدار بنتی ہیں، چیف پراسیکیوٹر بنگلادیش
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف چلنے والے مقدمے میں استغاثہ نے عدالت سے سزائے موت سنانے کی استدعا کر دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس سے مفرور شیخ حسینہ پر 2024 میں طلبہ احتجاجی تحریک پر کریک ڈاؤن کے دوران انسانیت سوز جرائم کا مقدمہ چل رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق شیخ حسینہ کی ایک آڈیو لیک ہوئی تھی جس میں وہ مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے احکامات دیتی سنی گئی تھیں، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو طاقت کے استعمال کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے۔
چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے کہا کہ “شیخ حسینہ واجد 1400 مرتبہ سزائے موت کی مستحق ہیں، مگر چونکہ یہ ممکن نہیں، اس لیے ہم کم از کم ایک بار سزائے موت کی اپیل کرتے ہیں۔”
ان کے مطابق، “شیخ حسینہ کا مقصد طاقت کے ذریعے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مستقل اقتدار حاصل کرنا تھا، وہ اپنی بربریت پر ذرا سا بھی پچھتاوا ظاہر نہیں کرتی۔”
واضح رہے کہ بنگلادیش کے عبوری انتظامی سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے بھارت سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا باضابطہ مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حسینہ واجد کے مطابق
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔