سونے کی آسمان کو چھوتی قیمت کو بریک لگ گئی، ہزاروں روپے کی بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
کراچی: سونے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت کو بریک لگ گئی اور فی تولہ قیمت میں 10 ہزار روپے سے زائد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 10600 روپے کم ہو کر 4 لاکھ46 ہزار 300 روپے ہو گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 9088 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 82 ہزار630 روپے ہو گئی ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 106 ڈالر کم ہو کر 4252 ڈالر فی اونس ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 14 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ ہوا تھا جبکہ دو روز قبل سونے کی فی تولہ قیمت 1900 روپے بڑھی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔