بولی وڈ کی متنازع فلم ’’دی تاج اسٹوری‘‘ کے ٹریلر پر صارفین کا غصہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
بھارت میں آنے والی بولی وڈ فلم ’’دی تاج اسٹوری‘‘ کا ٹریلر جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ صارفین نے نہ صرف فلم کی تاریخی حقائق سے روگردانی پر اعتراض کیا ہے بلکہ اسے مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی بھی قرار دیا ہے۔
ٹریلر میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ پریش راول ایک ٹور گائیڈ اور بعد میں وکیل کے طور پر دکھائی گئی ہیں جو تاج محل کی ملکیت کے کیس کی پیروی کر رہی ہیں۔ یہ فلم دنیا کے آٹھویں عجوبے، تاج محل، کی تاریخ کو ایک متنازع اور جھٹلائی گئی روایت کے تحت پیش کرتی ہے۔
فلم کے دعوے کے مطابق کہانی ’سچی کہانیوں‘ پر مبنی ہے، تاہم آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور مورخین نے اس دعوے کو یکسر مسترد کیا ہے اور اسے مسلم دشمنی اور تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔ ٹریلر میں پریش راول عدالت میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تاج محل محض محبت کی علامت نہیں بلکہ ’ظلم اور نسل کشی‘ کی علامت ہے۔
مزید برآں، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تاج محل کے نیچے 22 بند کمرے ہیں جن میں ہندو علامات موجود ہیں اور یہ عمارت اصل میں ایک مندر تھی۔ فلم کے ہدایتکار توشار امش گوئل ہیں جنہوں نے قبل ازیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر مبنی فلم بھی بنائی ہے۔
’’دی تاج اسٹوری‘‘ کی کہانی ایک خاص نظریے کو فروغ دیتی ہے، جس میں عدالت، احتجاج اور جذباتی مناظر شامل ہیں۔ ٹریلر میں پریش راول بغیر وکیل کے خود اپنا مقدمہ لڑتے دکھائی دیتے ہیں اور مورخین پر تاریخ چھپانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
یہ فلم بھارتی تاریخ کو خاص طور پر مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی ایک کڑی ہے، جو بولی وڈ میں ایک طویل عرصے سے جاری سیاسی اور نظریاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تاج محل، جو مغل دور کی ایک عظیم یادگار اور محبت کی علامت ہے، کو اس فلم کے ذریعے متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جسے عام لوگ اور تاریخ پسند حلقے سخت ناپسند کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تاج محل
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔