Jasarat News:
2026-07-24@07:33:39 GMT

چین: دو غیرملکی اسٹیلتھ طیاروں کو اپنی حدود سے مار بھگایا

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

چین: دو غیرملکی اسٹیلتھ طیاروں کو اپنی حدود سے مار بھگایا

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

چین کے جے-16 لڑاکا طیارے نے دو غیر ملکی لڑاکا طیاروں پر نشانہ بنادھ کر ملک کے ائیر ڈیفنس آئیڈینٹیفکیشن زون سے باہر نکال دیا۔

چینی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ پہلی مرتبہ رواں ماہ چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا، گزشتہ سال پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سے ان غیر ملکی طیاروں کو اس علاقے میں دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔

چینی تجزیہ کار اور پی ایل اے کے سابق کرنل یوے گانگ کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ غیر ملکی طیارے امریکا کے جدید ترین ففتھ جنریشن ایف-22 لڑاکا طیارے تھے۔

یوے گانگ نے بتایا کہ جے-16 طیارہ اسٹیلتھ طیاروں کو اس لیے ’لاک آن‘ کرنے (نشانہ باندھنے) میں کامیاب ہوا کیونکہ پی ایل اے ایک جامع جنگی نظام استعمال کرتی ہے، جس میں سیٹلائٹس، ارلی وارننگ طیارے اور اینٹی اسٹیلتھ ریڈار شامل ہیں ۔

3 اکتوبر کو سی سی ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں پی ایل اے کے ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے پائلٹ لی چاؤ نے بتایا کہ یہ واقعہ ایک تربیتی مشق کے دوران پیش آیا، انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ غیر ملکی طیاروں کے ارادے واضح طور پر اشتعال انگیز تھے۔

لی چاؤ کے مطابق سلسلہ وار فضائی مَنوورز کے دوران انہوں نے اپنے طیارے کو الٹا کرکے ایک غیر ملکی طیارے کے اوپر اڑان بھری، اس مقام پر دونوں طیاروں کے درمیان فاصلہ صرف 10 سے 15 میٹر رہ گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کرنے کے بعد میں نے بیک وقت دونوں طیاروں کو لاک کیا اور بالآخر دونوں غیر ملکی طیارے علاقے سے نکل گئے، فوجی اصطلاح میں کسی طیارے کو ’لاک آن‘ کرنا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ہدف کو ٹریک کرکے حملے کے لیے مکمل طور پر نشانے پر لے لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چین کا جے 16 لڑاکا طیارہ ففتھ جنریشن طیارہ نہیں ہے، یہ طیارہ 2016 میں چینی فضائیہ میں شامل ہوا۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طیاروں کو غیر ملکی

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال