پاکستان شوبز انڈسٹری کی سابق ماڈل اور اداکارہ زینب قیوم نے ایک ویب شو میں اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں دلچسپ انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی شادی کے محض دس ماہ بعد ہی ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی تھی۔

زینب قیوم نے بتایا کہ انہوں نے 2010 میں شادی کی تھی اور اس کے بعد دبئی اور پھر لندن منتقل ہوگئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں تو سوچتی تھی کہ شوہر کے گھر سے ہی میری میت اٹھے گی اور میرے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا بدلہ میرے بچے لیں گے، لیکن اس کے باوجود میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی۔‘‘

زینب نے اعتراف کیا کہ طلاق کے بعد وہ دلبرداشتہ ہوگئی تھیں اور سوچتی تھیں کہ ایک کامیاب کیریئر کے باوجود وہ شادی جیسے رشتے کو نبھانے میں کیسے ناکام ہو گئیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے سابق شوہر کو لگتا تھا کہ ہمارے درمیان مطابقت نہیں ہے۔ میں ان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے سب خود ہی ختم کر دیا، کیونکہ میں نے ان کے لیے سب کچھ کیا تھا، اس لیے مجھے کسی قسم کا کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔‘‘

زینب قیوم پاکستان فیشن انڈسٹری کی سپر ماڈل رہ چکی ہیں اور اب وہ پاکستانی ڈراموں میں بڑی عمر کی خواتین کے کرداروں میں نظر آتی ہیں۔ یاد رہے کہ زینب قیوم کو 2004 میں لکس اسٹائل ایوارڈز میں سال کی بہترین ماڈل کا اعزاز بھی مل چکا ہے۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: زینب قیوم

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد