data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آج میں کراچی کے مزدور کے جس مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اس کو چھاپنے کی جسارت سوائے روزنامہ جسارت کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔ استاد کی عظمت پر بڑے بڑے سیمینار تو منعقد ہوتے ہیں لیکن کسی بھی سرکاری ادارے نے آج تک اپنی وزیٹنگ فیکلٹی کے لیے کوئی پروگرام تک منعقد کرنا ضروری نہیں سمجھا اور توجہ دلانے پر یہ کہہ کر ٹال دیا اگیا کہ ’’ہمارے پاس غیر ضروری کاموں کے لیے بجٹ نہیں‘‘ جبکہ بڑے بڑے مفتی و علماء و اسکالرز سرکاری اداروں میں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف کراچی جیسے عالمی شہرت و حیثیت رکھنے والے شہر کی سرکاری جامعات اپنے مستقبل کے شاہینوں کو تیار کرنے والے عارضی ملازمین و اساتذہ کے ساتھ سوتیلے بچوں جیسا سلوک کررہی ہیں۔ یہ اساتذہ و ملازمین ایسے سفید پوش مزدور ہیں جو اپنے مسائل کسی کو نہیں بتا سکتے اس لیے میں نے ان کی آواز بننے کا فیصلہ کیا اور انشاء اللہ اس مسئلے پر اب کام بھی ہوگا۔ ان کے مسائل میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ وقت پر تنخواہوں کا اجراء نہ ہونا اور فکسڈ سیلری نہ ہونا ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہر عارضی استاد اپنی تنخواہ کے حصول کے لیے ہر ماہ
اپنے نام کا ایک بل بناتا ہے جس میں گھنٹوں کے حساب سے کلاسز کی تعداد (Credit Hours)کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں اور ہر گھنٹے کے حساب سے طے شدہ مشاہرہ جو کہ اونٹ کے منہ میں زہرہ ہے تحریر کیا جاتا ہے جو تقریباً تین ماہ بعد پروسیس ہو کر بینک میں ٹیکس کٹوتی کے بعد پہنچتا ہے اور بعض اوقات تین ماہ بعد بھی یہ کہہ کر بات ٹال دی جاتی ہے کہ ابھی جامعہ کے مالی حالات بہتر نہیں اس لیے تنخواہیں اگلے یا پھر اس سے اگلے ماہ بعد ملیں گی ہم کسی کا پیسہ اپنے پاس نہیں رکھتے ہیں؟؟؟ مطلب کراچی کی سرکاری جامعات کے پاس اپنے عارضی اساتذہ و ملازمین کے لیے کوئی بجٹ قبل از وقت ہوتا ہی نہیں یا طے کیا جاتا ہی نہیں؟؟؟ اچھا جی۔۔۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ اگر آپ اپنا حق مانگیں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ’’ہم کیا کریں ہمارے پاس عارضی اساتذہ و
ملازمین کے لیے ابھی بجٹ موجود نہیں‘‘۔۔۔ یعنی تین ماہ بعد آپ کو یہ بات توجہ دلانے پر یاد آرہی ہے کہ اساتذہ و ملازمین کی تنخواہوں کے لیے ہمارے پاس ابھی کچھ نہیں ہے ابھی آپ ہوا کھاؤ اور پانی پیو اور صبر و توکل کرو بس۔ بعض ایسے اساتذہ و ملازمین سے بات کرنے پر یہ بھی پتا چلا ہے کہ کراچی کی سرکاری جامعات کی اس اوٹ پٹانگ حرکت کی وجہ سے گھریلو جھگڑے ہوئے اور طلاق و خُلا بھی ہوئیں ہیں۔ پھر بھی اگر یہ مسئلہ ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تو اس کے علاوہ نہ تو ان اساتذہ و ملازمین کے لیے میڈیکل اور نہ ہاؤس سیلنگ کا اجراء ہوتا ہے اور توجہ دلانے پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مراعات صرف مستقل اساتذہ و ملازمین کے لیے ہیں اور سرکاری جامعات تو آپ کو تجربہ کرنے کا موقع دے رہی ہیں کیا اتنا کافی نہیں؟؟؟۔۔۔ مطلب سرکاری جامعات تو اس بات سے اپنی مستقل فیکلٹی کی نااہلی ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ تمام طلبہ و طالبات کے لیے ناکافی ہیں اور ہمیں باہر سے خواہشمند اساتذہ و ملازمین مجبوراً وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر لینا پڑ رہے ہیں۔۔۔ لیجیے قبلہ شوق سے لیجیے مگر ان کے گھروں کی کفالت بھی کرنا آپ کی زمہ داری میں آئے گا یا پھر صرف اپنا الّو سیدھا کرنا آپ کا مقصد ہے؟؟؟۔۔۔ پھر تیسرا مسئلہ یہ بھی آتا ہے کہ جب تین یا چھ ماہ یا سال بھر بعد سیلری ملتی ہے تو وہ سرکاری ٹیکس کٹ کر ملتی ہے جب کہ تنخواہ پر ٹیکس کٹوتی ماہانہ 50000 سے کم پر نہیں لیکن پھر جامعات کس فارمولے کے تحت ٹیکس کاٹ دیتی ہیں؟؟؟ کیا سرکاری جامعات کی انتظامیہ اتنی بھی عقل نہیں رکھتیں کہ وہ ایک گریڈ 19 کے پی ایچ ڈی لیول کی استاد کے ساتھ کیا مزاق کر رہی ہے کہ جو اپنی تعلیم پر لاکھوں روپے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے انڈورسمنٹ پر ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے اور آپ؟؟؟ ان حرکتوں میں ملوث ہیں یا یہ بتادیں کہ آپ کب تک سونے کو کچرے کے بھاؤ بیچیں گے؟؟؟ سرکاری جامعات کو اس مسئلہ پر اپنا قبلہ درست کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ آپ کے پڑھے لکھے ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ آپ سرکاری جامعات چلانے کے بجائے کریانہ اسٹور کھول لیں اور پڑھے لکھے لوگوں کی زندگیاں اس بے دردی سے تباہ کرنا بند کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حقدار کا حق دینے والا بنائے اور وزیٹنگ فیکلٹی کے ساتھ نارواں سلوک نہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

p

ڈاکٹر حافظ سلمان نوید گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اساتذہ و ملازمین کے لیے سرکاری جامعات ماہ بعد

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی