اب سولر کو آپ بھول جائیں گے، امریکی ’انورٹر بیٹری‘ نے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
سولر پینل کو متبادل توانائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوڈ شیڈنگ سے تنگ شہری اس توانائی کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں لیکن شہری علاقوں میں خاص طور پر فلیٹس میں رہنے والے شہری اس ٹیکنالوجی کو چاہتے ہوئے بھی استعمال نہیں کر پا رہے کیوں کہ سولر پلیٹس لگانے کے لیے آپ کے پاس چھت ہونی چاہیے اس لیے فلیٹس میں رہنے والے متبادل کی تلاش میں ہیں تاکہ انہیں بھی بھاری بلوں اور لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: جو صارفین سولر نیٹ میٹرنگ پر نہیں وہ اس کا بوجھ کیوں اٹھائیں؟ وزیر توانائی اویس لغاری
سولر ٹیکنالوجی بہتر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چارج ایبل بیٹریوں کا بھی چرچا لگا رہتا ہے اور یہ معمہ کہ کون سی بیٹری اچھی ہے؟ کون سی زیادہ چلے گی؟ اب تک حل نہیں ہو سکا۔ کیوں کہ سولر سسٹم کے پورے بیکج میں آپ کو سب کچھ الگ الگ لینا پڑتا ہے، آپ کو پلیٹس چاہییں، بیٹری چاہیے، انورٹر چاہیے لیکن یہ سب اگر ایک ہی چیز میں مل جائے وہ بھی جہاں جب چاہے لے جائیں تو کیسا ہوگا؟
جی ہاں! اب ایسی ٹیکنالوجی کراچی میں آچکی ہے جو ناصرف آپ کی لوڈشیڈ نگ کا حل ہے بلکہ اس کے لیے چھت کی ضرورت بھی نہیں ہے، جب چاہیں جہاں چاہیں اٹھا کر رکھ دیں۔
یہ ہے امریکی ٹیکنالوجی ایکوفلو (ecoflow) کی چارج ایبل بیٹریز جو کراچی پہنچ چکی ہیں جنہیں فلیٹوں کے لیے بہترین متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، یہ بجلی، سولر اور گاڑی سے چارج ہوسکتی ہیں، اس وقت یہ ریگل چوک صدر میں حفیظ الیکٹرانکس پر مختلف امپیئرز اور مختلف قیمتوں میں دستیاب ہیں۔
مصطفیٰ آصف جو اس دکان کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پورٹ ایبل بیٹریز ہیں اپنی ضرورت کے مطابق آپ خرید سکتے ہیں، کسی کو اگر ایک پنکھا چلانا ہے اس کے لیے بھی اور کسی کو اگر 7 سے 8 گھنٹے اے سی چلانا ہے اس کے لیے بھی یہ مختلف قیمتوں میں دستیاب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میڈ ان پاکستان سولر ٹیکنالوجی پر کام شروع، قیمتوں میں کتنی کمی کا امکان ہے؟
مصطفیٰ آصف کا کہنا ہے کہ یہ انورٹر چارج ہونے میں کم وقت لیتا ہے اور کم بجلی خرچ کرتا ہے۔ اس کی قیمتیں 69 ہزار سے شروع ہو کر 5 لاکھ روپے تک ہیں اور اس کے علاوہ بھی ان کے پاس مزید پورٹ ایبل بیٹریز آرہی ہیں۔
یہ نا صرف بیٹریز ہیں بلکہ یہ انورٹر بھی ہے اس کے ساتھ آپ پورے گھر کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی انورٹر بیٹری بھاری بلوں سے نجات تہلکہ مچ گیا سولر پلیٹس نئی ٹیکنالوجی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی انورٹر بیٹری بھاری بلوں سے نجات تہلکہ مچ گیا سولر پلیٹس نئی ٹیکنالوجی وی نیوز کے لیے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ