ایران کی امریکی اور اسرائیلی ٹیکنالوجی پر برتری
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے رکن نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ایران کو شرم الشیخ اجلاس میں جانا چاہیے تھا وہ یا تو احمق ہیں یا وہ سفارت کاری کو نہیں سمجھتے۔وہ ناخواندہ ہیں اور سیاسی اور سفارتی شعور سے محروم ہیں۔ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم میں سے کم از کم ایک شخص جاسوس تھا جو اب جیل میں ہے، اور ایک یا دو دیگر مشتبہ تھے۔ ٹرمپ اپنے نوکروں کو جو گالیاں دیتا تھا، وہ اس سے دس گنا زیادہ اپنے ساتھ تعاون کرنیوالوں کی توہین کرتا ہے، اور پھر کہتا ہے کہ میرے پاس کھڑے ہو کر ایک یادگاری تصویر کھینچوائیں۔ خصوصی رپورٹ:
ایران کیخلاف اسرائیل کی جارحیت اور اس کے بعد صیہونی امریکی اتحاد کی شکست کے متعلق پوری دنیا میں بحث و تمحیص جاری ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے رکن نے حسن رحیم پور ازغدی نے 12 روزہ جنگ میں ایران کے ہائپرسونک میزائلوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی میزائل کے سامنےامریکہ، اسرائیل اور یورپ کی تمام ٹیکنالوجی میں چھید پڑ گئے اور دشمنوں کو جنگ بندی کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا۔
دشمن کی طرف سے جنگ بندی:
ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے رکن حسن رحیم پور ازغدی نے 12 روزہ جنگ میں قومی یکجہتی سے متعلق ایک خصوصی اجلاس میں دشمنوں پر ایران کے ہائپرسونک میزائلوں کے اثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمنوں کو محسوس ہوتا کہ ایران جواب دینے سے قاصر ہے تو وہ جو کچھ غزہ کے ساتھ کر رہے ہیں، وہی ایران کیخلاف کرتے، لیکن جب انہوں نے ایران کو تل ابیب کے متعدد محلوں کو غزہ میں تبدیل کرتے دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ ایران دوسروں سے مختلف ہے، جنگ انہوں نے شروع کی تھی لیکن ایران کے ردعمل کے بعد انہوں نے خود ہی جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔
ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل کے رکن رحیم پور ازغادی نے بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے داخلی اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے مذاکرات کے دوران براہ راست اور کھلے عام ایران پر حملہ کیا،12 روزہ جنگ کے دوران دشمن نے ایرانی مسلح افواج کے سربراہان کے اجلاس کو نشانہ بنایا، کمانڈروں اور سائنسدانوں کو شہید کیا، ماضی میں ایسی کارروائی کی مثال نہیں ملتی اور اس کی بڑی وجہ ممکنہ طور پرانہیں ملنے والےکمزور اشارے ہو سکتے ہیں، ان سے اجتناب ضروری ہے۔
دوبارہ حملے کے امکانات:
انہوں نے امریکہ، انگلینڈ اور اسرائیل کی طرف سے ایک اور حملے کے امکان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے کمزوری دکھائی تو وہ ضرور حملہ کریں گے اور اگر اندر سے متضاد آوازیں آئیں توایسا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض حکام نے12 روزہ جنگ کے وسط میں بیانات دئیے، جنگ بندی کے بعد صیہونیوں نے سید حسن نصر اللہ اور یحییٰ سنوار کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سائرس، زرکسیز اور دارا کے بارے میں بات کرنے والوں کو کم از کم ان جیسا ہونا چاہیے، کیونکہ وہ ہمیشہ مغرب کے ساتھ جنگ میں رہے تھے، اس زمانے کے ہٹلرکے جرائم دھونے کی کوشش کی گئی۔
جنگ بندی کے بعد 95 فلسطینیوں کی شہادت:
انہوں نے کہا کہ صیہونیوں نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک 95 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے اور بعض قیدیوں اور لاشوں کو حماس کے حوالے نہیں کیا ہے، کیا واقعی ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ یہ ایک مثال ہے۔ شرم الشیخ سربراہی اجلاس منعقد ہوا اور 7 سے 8 ممالک کو مدعو کیا گیا تاکہ ٹرمپ کہہ سکیں کہ میں نے امن قائم کیا، یہ عالمی مجرم نوبل امن انعام بھی چاہتا ہے، ٹرمپ نے شرم الشیخ سربراہی اجلاس میں موجود تمام ممالک کی توہین کی جنہوں نے امریکہ کے ساتھ تعاون کیا۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ ایران کو شرم الشیخ اجلاس میں جانا چاہیے تھا وہ یا تو احمق ہیں یا وہ سفارت کاری کو نہیں سمجھتے۔وہ ناخواندہ ہیں اور سیاسی اور سفارتی شعور سے محروم ہیں۔ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم میں سے کم از کم ایک شخص جاسوس تھا جو اب جیل میں ہے، اور ایک یا دو دیگر مشتبہ تھے۔ ٹرمپ اپنے نوکروں کو جو گالیاں دیتا تھا، وہ اس سے دس گنا زیادہ اپنے ساتھ تعاون کرنیوالوں کی توہین کرتا ہے، اور پھر کہتا ہے کہ میرے پاس کھڑے ہو کر ایک یادگاری تصویر کھینچوائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اجلاس میں شرم الشیخ انہوں نے ہوئے کہا ایران کی کہ ایران اور اس کہا کہ کے بعد
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ