وزیرِ اعظم نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندو برادری کو دیوالی مبارک باد دیتے ہوئے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔شہباز شریف  نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ روشنیوں کا تہوار دیوالی، روشنی کی تاریکی اور امید کی مایوسی پر فتح کے جشن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس موقع پر آئیں ہم سب مل کر مستقبل کو مثبت سوچ اور اتحاد کے نظریے سے دیکھیں۔ پاکستانی ہونے کے ناتے ہم اپنے معاشرے میں تنوع پر فخر کرتے ہیں، جو ہمارے قومی دھارے کو مزید مضبوط بناتا ہے اور ہماری مشترکہ ثقافت کو تقویت بخشتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیوالی کے موقع پر میں پاکستان میں ہندو برادری کی گرانقدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جن کا ہمارے سماجی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں کردار ہماری قوم کو مضبوط بنا رہا ہے۔ پاکستان میں عقائد کا تنوع ہمارے لوگوں کے درمیان اتحاد کا حقیقی ذریعہ ہے۔ وزیراعظم کا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو اپنے ملک کی ترقی کے لیے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے۔  بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ایسے ہی پاکستان کا تصور دیا تھا، جہاں تمام برادریوں کو بلا تفریق مذہب، نسل یا ذات کے برابری اور آزادی حاصل ہو۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ان اقدار کو برقرار رکھنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ پاکستان میں ہر کمیونٹی کو ان کے عقائد سے قطع نظر مساوی حقوق اور یکساں ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہماری یہ دعا ہے کہ روشنیوں کا یہ تہوار آپ کی زندگیوں میں امن و خوشحالی لائے اور ہمارے ملک میں تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کے مضبوط رشتوں کو پروان چڑھائے۔دیوالی مبارک۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی مبارکباد

دریں اثنا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی دیوالی کے موقع پر ہندوبرادری کے  لیے خصوصی پیغام  دیتے ہوئے انہیں مبارک باد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیوالی کا دیپ محبت کی جوت جگاتا ہے۔ باہمی محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ  اقلیتوں  کے لیے اسپیشل مینارٹی کارڈ کا اجرا کردیا ہے۔ محفوظ پنجاب ویژن کے تحت مینارٹی ورچوئل پولیس اسٹیشن بھی قائم کررہے ہیں۔  پاکستان ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس میں مختلف مذاہب کے لوگ اخوت و بھائی چارے سے رہتے ہیں۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا پیغام

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے دیوالی کے تہوار کے موقع پر اپنے پیغام میں ہندو برادری کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ دیوالی روشنی، محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے۔ ہندو برادری ملک اور صوبے کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ  پاکستان میں ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔  اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔  موجودہ حکومت بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ  دیوالی کے اس پرمسرت موقع پر ملک و قوم کی ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ خصوصی پیغام پاکستان میں بھائی چارے دیوالی کے کے لیے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ