ویمنز ورلڈکپ: بنگلادیش ایونٹ سے باہر، پاکستان ٹیم کیلیے اگر مگر کی صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
بنگلادیش آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2025 سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بن گئی۔
تفصیلات کے مطابق سری لنکا کے ہاتھوں 7 رنز سے شکست کے بعد بنگلادیشی ٹیم کے سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات ختم ہوگئے۔
آسٹریلیا، جنوبی افریقا اور انگلینڈ کی ٹیمیں پہلے ہی سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرچکی ہیں۔
سیمی فائنل کی چوتھی اور آخری ٹیم کے لیے بھارت، نیوزی لینڈ، سری لنکا اور پاکستان کے درمیان مقابلہ ہے جس میں بھارت اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں بہتر پوزیشن میں ہیں۔
پاکستان ٹیم آج جنوبی افریقا کے خلاف میدان میں اترے گی جبکہ آخری میچ سری لنکا کے خلاف کھیلنا ہے۔
پاکستان ٹیم کو سیمی فائنل میں رسائی کے لیے دونوں میچز میں لازمی فتح درکار ہے۔
پاکستان ٹیم کی سیمی فائنل میں رسائی کیلیے یہ بھی ضروری ہے کہ بھارت اپنے بقیہ دونوں میچز ہارے اور انگلینڈ کی ٹیم نیوزی لینڈ کو شکست دے۔
اس صورتحال میں بھی پاکستان اور نیوزی لینڈ کے پوائنٹس برابر ہوجائیں گے اور فیصلہ رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیمی فائنل میں رسائی پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔