غیرقانونی بھرتیاں: پرویز الہٰی سمیت دیگر ملزمان فرد جرم کیلئے طلب
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔اینٹی کرپشن عدالت لاہور نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 6 نومبر کو ملزمان کو فرد جرم کیلئے طلب کر لیا۔عدالت نے پرویز الہٰی کے شریک ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر دلائل بھی طلب کر لئے۔اینٹی کرپشن عدالت کے جج جاوید اقبال وڑائچ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ پرویز الہٰی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست پر پراسیکیوٹر نے اعتراض عائد کیا، پراسیکیوشن کے مطابق چودھری پرویز الہٰی گزشتہ سماعت پر بھی پیش نہیں ہوئے تھے۔تحریری حکم میں کہا گیا کہ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی اس مقدمے میں فرد جرم عائد نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پرویز الہ ی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔