پی آئی اے کی پروازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
قومی ایئرلائن پی آئی اے کو اندرون و بیرون ملک پرندوں سے جہازوں کے ٹکرانے کے بڑھتے واقعات نے شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ رواں سال صرف نو ماہ میں 90 مرتبہ پرندے طیاروں سے ٹکرائے، جس سے پی آئی اے کو اربوں روپے کا نقصان اور فضائی آپریشن میں شدید خلل کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور ایئرپورٹ ان واقعات میں سرفہرست رہا، جبکہ اسلام آباد، ملتان، کراچی، پشاور اور دیگر شہروں کے ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے۔
حادثات کے نتیجے میں بوئنگ 777، ایئر بس A320 اور اے ٹی آر طیاروں کو نقصان پہنچا، چند کو گراؤنڈ بھی کر دیا گیا۔ ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق پرندوں سے بچاؤ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے تحت سسٹم نصب کیا جا رہا ہے اور حکومتِ پنجاب کے تعاون سے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہوائی اڈوں کے اطراف موجود آبادی، کھانے پینے کے مراکز اور پرندوں کی افزائش کے مقامات اس بڑھتی ہوئی پریشانی کی بڑی وجہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔