کراچی، اغواء کی وارداتوں میں ملوث جعلی میجر ساتھیوں سمیت پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ملزمان سے دو 30 بور کی پستول، گاڑی، چار وائرلیس سیٹ، چار موبائل فون اور تین بلٹ پروف جیکٹ برآمد ہوئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے بوٹ بیسن پولیس نے جعلی میجر بن کر شارٹ ٹرم اغواء کی وارداتوں میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت طلال افسر عرف میجر ظفر اور امام بخش کے نام سے ہوئی، ملزمان سے دو 30 بور کی پستول، گاڑی، چار وائرلیس سیٹ، چار موبائل فون اور تین بلٹ پروف جیکٹ برآمد ہوئی ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے متعدد وارداتوں کا اعتراف کرلیا۔ ملزمان نے مدعی تاج الدین سے دو اقساط میں 80 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان کیخلاف تاوان کا مقدمہ تھانہ ٹیپو سلطان میں درج ہے۔
ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملزمان تھانہ بوٹ بیسن کے مقدمے میں بھی ملوث نکلے، طلال افسر عرف میجر ظفر پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ جعلی میجر ملزم طلال افسر کے خلاف تھانہ سپر مارکیٹ اور گلشن اقبال میں مقدمات درج ہیں، گرفتار ملزمان کے خلاف مزید مقدمات درج کرلیے گئے۔ ملزمان کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، گرفتار ملزمان کا تعلق پیشہ ور جرائم پیشہ گروہ سے ہے، تفتیش میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک