پشاور میں 10 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنیوالا زیر حراست فائرنگ سے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ آغا میر جانی شاہ میں درج تھا جس کو نشاندہی کیلیے لے جایا جارہا تھا تو موٹرسائیکل پر سوار اُس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں 10 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کرنے والا ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور یکہ توت تھانے کی حدود میں دس سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرکے قتل کرنے والا سفاک ملزم سمیع اللہ کو ساتھیوں نے چھڑانے کی کوشش کی جس کے دوران وہ ملزمان کی ہی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ آغا میر جانی شاہ میں درج تھا جس کو نشاندہی کیلیے لے جایا جارہا تھا تو موٹرسائیکل پر سوار اُس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ موٹر سائیکل پر سوار ملزمان کی فائرنگ سے پولیس موبائل کو نقصان پہنچا جبکہ زیر حراست ملزم سمیع اللہ ولد سعد اللہ سکنہ لالی باغ لگ کر زخمی ہوگیا اور ملزمان فرار ہوگئے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی یکہ توت سرکل سعید الرحمٰن، ایس ایچ او تھانہ آغا میر جانی شاہ گلزار خان بھاری نفری کے ہمراہ فوری موقع پر پہنچے اور ملزم کو علاج کیلیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جان بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردی گئی ہے جبکہ مختلف مقامات پر قائم ناکہ بندیوں پر چیکنگ جاری ہے ملوث ملزمان جلد ہی قانون کی گرفت میں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔