قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان نے ہفتہ سیرت کی طرح ملک بھر میں ہفتہ نماز اور ہفتہ زکوٰۃ منانے کا اعلان کیا ہے۔

قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان کا اجلاس آج  وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ اندرونی و بیرونی صورتِ حال، قومی یکجہتی، مذہبی ہم آہنگی اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے منبر و محراب کے مثبت کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاقِ رائے کیا گیا کہ اسلام نے منبر و محراب کو اصلاحِ معاشرہ، تعلیمِ دین اور فکری رہنمائی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا ہے۔ علمائے کرام اور مشائخ عظام قوم کے فکری و روحانی رہنما ہیں، جو امن، اخوت اور اتحاد کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے قرآن حکیم سرچشمۂ ہدایت ہے، جس پر عمل سے کامیابی ممکن ہے، سردار محمد یوسف

اجلاس نے ملک میں پھیلتی انتہا پسندی، دہشت گردی اور نفرت آمیز رویوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحانات ملکی سلامتی کے لیے دیمک کی مانند ہیں۔
اجلاس میں نبی کریم ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع میں بیان کردہ انسانی مساوات، عدل، امن اور اخلاق کے اصولوں کو رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا۔

اعلامیے کے اہم نکات

قومی یکجہتی اور امن
انتہا پسندی، دہشت گردی اور نفرت انگیز ماحول کے خاتمے کے لیے امتِ مسلمہ کے اتحاد، قومی ہم آہنگی اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جائے گا۔

ملکی دفاع پر خراجِ تحسین
اجلاس نے بھارت اور افغانستان کی جانب سے جارحیت کی شدید مذمت کی اور وزیرِ اعظم پاکستان، فیلڈ مارشل، مسلح افواج اور قوم کو معرکۂ حق میں کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
علمائے کرام اور مشائخ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ملک و ملت کے دفاع کے لیے ہر قربانی دیں گے۔

نماز و زکوٰۃ کے ہفتے
اجلاس نے فیصلہ کیا کہ جس طرح ہفتۂ سیرت منایا گیا، اسی طرح ہفتۂ نماز اور ہفتۂ زکوٰۃ بھی منایا جائے گا تاکہ عبادات کے نظام کو فروغ دیا جا سکے۔

نفرت انگیز خطبات سے اجتناب
تمام خطباء، واعظین اور ذاکرین سے کہا گیا کہ وہ اختلافی یا متنازعہ موضوعات سے گریز کریں اور کسی بھی مسلک، فقہ یا شخصیت کے خلاف نفرت انگیز یا اشتعال انگیز گفتگو نہ کریں۔
فتویٰ یا شرعی فیصلے صرف مجاز دینی ادارے یا دارالافتاء جاری کریں گے۔

قانون کی پاسداری اور نظم و ضبط
خطباء عوام کو قانون کی پابندی، صبر، نظم و ضبط کی تلقین کریں اور تصادم یا بدگمانی سے دور رہنے کی ہدایت کریں۔

اصلاحی و سماجی موضوعات
خطبات و تقاریر میں اخلاقی تربیت، معاشرتی ذمہ داری، تعلیم، صحت، صفائی، خواتین و بچوں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر اصلاحی موضوعات شامل کیے جائیں۔
مزید یہ کہ بے روزگاری، منشیات، جہالت اور اخلاقی بگاڑ جیسے مسائل پر مثبت اور تعمیری گفتگو کی جائے۔

نوجوان نسل کی رہنمائی
نوجوانوں کے فکری و ذہنی سوالات کو مدلل انداز میں زیرِ بحث لایا جائے۔
مقررین جدید ابلاغی مہارتوں اور سائنسی طرزِ استدلال کو اپنائیں، اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر آگاہی دیں۔
نفرت انگیز پیغامات، جعلی خبروں اور توہین آمیز مواد کی روک تھام کی جائے۔

ریاستی اداروں کا احترام
عوام کو ریاست، آئین اور قانون کی بالادستی تسلیم کرنے کی تعلیم دی جائے۔
کسی بھی تقریر یا بیان کے ذریعے ریاستی اداروں، عدلیہ، افواج یا انتظامیہ کے خلاف اشتعال یا بداعتمادی پیدا نہ کی جائے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں، وفاقی وزیر سردار یوسف

سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
اجلاس نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی مضبوطی، عالمِ اسلام کی مضبوطی ہے۔
شرکاء نے کہا کہ حرمین شریفین ہماری عقیدتوں کا مرکز ہیں اور ان سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔

اختتامی پیغام

اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ علمائے کرام اور مشائخ ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی، قومی وحدت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے تاکہ پاکستان کو امن و رواداری کا گہوارہ بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان قومی علماء و مشائخ کونسل نفرت انگیز اجلاس نے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم