سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے رواں سال 2025 کی دوسری سہہ ماہی کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 54 لاکھ 48 ہزار 992 ویڈیوز کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر حذف کردی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستان میں فعال انداز میں کانٹینٹ ہٹانے کی شرح 99.7 فیصد رہی ہے جبکہ حذف شدہ ویڈیوز میں سے 96.

2 فیصد ویڈیوز اپ لوڈ کیے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دی گئیں۔

اس حوالے سے ٹک ٹاک نے رواں سال کی پہلی سہہ ماہی کے لیے کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ جاری کر دی ہے جو صارفین کیلئے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی کے سلسلے میں ٹک ٹاک کے مسلسل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

اپریل سے جون 2025 کے درمیانی عرصے کے اعداد و شمار پرمشتمل یہ رپورٹ ان فعال اقدامات کی تفصیل فراہم کرتی ہے جو ٹک ٹاک نے اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والے کانٹینٹ کی نشاندہی اور اسے حذف کرنے کے لیے اختیار کئے تاکہ اپنی عالمی کمیونٹی کے لیے مثبت تجربہ یقینی بنایا جاسکے۔

ٹک ٹاک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 2025 کی دوسری سہ ماہی کے دوران عالمی سطح پر ٹک ٹاک نے مجموعی طور پر 189 ملین ویڈیوز حذف کیں جو پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کئے گئے، کُل کانٹینٹ کا تقریباً 0.7 فیصد بنتی ہیں۔

حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 16 کروڑ 39 لاکھ 62 ہزار دو سو اکیالیس ویڈیوز خودکار ٹیکنالوجیز کی نشاندہی پر حذف کی گئیں جبکہ 74 لاکھ 57 ہزار 309 ویڈیوز مزید جائزے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔

فعال انداز میں کانٹینٹ کوحذف کرنے کی شرح 99.1 فیصد رہی اور ان میں 94.4 فیصد نشان زدہ کانٹینٹ کو پوسٹ کئے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر حذف کر دیا گیا ہے۔ ٹک ٹاک کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اس سہ ماہی میں پلیٹ فارم نے سات کروڑ76 لاکھ اکیانوے ہزار چھ سو ساٹھ جعلی اکاؤنٹس حذف کیے اور مزید 2 کروڑ اُنسٹھ لاکھ چار ہزار سات سو آٹھ ایسے اکاؤنٹس بھی حذف کیے گئے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ 13 سال سے کم عمر صارفین کے تھے۔

2025کی پہلی سہ ماہی کی تفصیلی رپورٹ جاننے اور ٹک ٹاک کی کانٹینٹ سے متعلق گائیڈ لائنز، ٹولز اور پالیسیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ٹک ٹاک کیٹرانسپیرنسی سینٹرکا وزٹ کیجیے جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان ٹک ٹاک نے ٹک ٹاک کی کے لیے

پڑھیں:

مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کی جائے اور اس پر مؤثر و لازمی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور گھریلو معاشی حالات کے پیش نظر کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض سالانہ اعلان کے بجائے ایک مؤثر سماجی و معاشی پالیسی کے طور پر اپنانا ضروری ہے۔

مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل حکومت کو بھجوائے گئے اپنے پالیسی نوٹ میں پائیڈ نے کہا ہے کہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے شعبوں میں قیمتوں کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار کے پھیلاؤ اور گھریلو معاشی مشکلات کے ماحول میں کم از کم اجرت کی پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد سماجی و معاشی آلے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مزدوروں کا تحفظ کرے اور دوسری جانب معاشی طور پر قابلِ عمل بھی ہو۔

یہ بھی پڑھیے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟

ادارے نے سفارش کی کہ کم از کم اجرت کے سالانہ اعلانات کو محض علامتی یا صوابدیدی فیصلوں کے بجائے ایک شفاف اور قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت طے کیا جائے، جس کی بنیاد مستند سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے اصولوں پر ہو۔

پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ طریقہ کار کسی ایک معاشی اشاریے یا من مانے اضافے پر انحصار کرنے کے بجائے قوتِ خرید کے تحفظ، مزدور اور اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات، لیبر مارکیٹ کی استعداد، پیداواری صلاحیت میں جزوی شراکت اور صوبائی سطح پر عملدرآمد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتا ہے۔

پائیڈ کے مطابق اس اصلاحاتی فریم ورک کے چار بنیادی ستون ہیں: شواہد پر مبنی اور شفاف اجرت کا تعین، صوبائی سطح پر مناسب ایڈجسٹمنٹ، مؤثر نگرانی اور عملدرآمد کا نظام، اور اجرتوں کے تعین و نفاذ سے متعلق سالانہ رپورٹنگ۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت کا روایتی اعلان بھی نہیں کیا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ کاروباری ادارے پچھلے سال مقرر کی گئی کم از کم اجرت ادا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔

پائیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان بیورو آف شماریات اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سرکاری اعداد و شمار پر مجوزہ فریم ورک کا اطلاق کرنے سے مالی سال 2026-27 کے لیے 45 ہزار روپے ماہانہ کی قومی کم از کم اجرت کا حوالہ جاتی معیار سامنے آتا ہے، جو موجودہ 40 ہزار روپے کی مقررہ اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔

پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ کم از کم اجرت کی پالیسی محض سالانہ رسمی مشق نہیں رہ سکتی جو معاشی حقائق اور مزدوروں کی فلاح سے کٹی ہوئی ہو۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک ایسا قابلِ اعتماد اجرتی نظام درکار ہے جو مزدوروں کے تحفظ، پیداواری صلاحیت، کاروباری پائیداری اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی اور سماجی استحکام کا خواہاں ملک محنت کش طبقے کی غربت، اجرتوں میں غیر یقینی صورتحال اور لیبر مارکیٹ کے منتشر نظام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پائیدار معاشی اصلاحات کا مقصد کارکنوں کو وقار، پیش بینی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔

مجوزہ ’قومی حوالہ جاتی معیار اور صوبائی ایڈجسٹمنٹ‘ ماڈل کے تحت صوبوں کو یہ آئینی اختیار حاصل رہے گا کہ وہ مقامی معاشی حالات کے مطابق قومی کم از کم معیار کے برابر یا اس سے زیادہ اجرت مقرر کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟

پائیڈ کی تجویز کے مطابق پنجاب میں کم از کم اجرت 45 ہزار روپے، جبکہ شہری اخراجات اور رسمی شعبے میں روزگار کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں 46 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے لیے جغرافیائی مسائل اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے 45 ہزار 500 روپے کی تجویز دی گئی ہے۔

مطالعے کے شریک مصنف اور پائیڈ میں معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم نعیم نواز نے کہا کہ مؤثر کم از کم اجرت وہی ہو سکتی ہے جو مزدور حقیقتاً حاصل کر سکیں اور صوبے مؤثر انداز میں نافذ کر سکیں۔

ان کے مطابق صرف افراطِ زر یا غربت کی لکیر کو بنیاد بنانے کے بجائے ایک جامع اور متوازن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے، جو کاروباری استطاعت، عملدرآمد کی صلاحیت اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد روزگار اب بھی غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ

متعلقہ مضامین

  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟