ٹک ٹاک نے پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر کروڑوں ویڈیوز حذف کردیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے رواں سال 2025 کی دوسری سہہ ماہی کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 54 لاکھ 48 ہزار 992 ویڈیوز کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر حذف کردی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستان میں فعال انداز میں کانٹینٹ ہٹانے کی شرح 99.7 فیصد رہی ہے جبکہ حذف شدہ ویڈیوز میں سے 96.
اس حوالے سے ٹک ٹاک نے رواں سال کی پہلی سہہ ماہی کے لیے کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ جاری کر دی ہے جو صارفین کیلئے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی کے سلسلے میں ٹک ٹاک کے مسلسل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
اپریل سے جون 2025 کے درمیانی عرصے کے اعداد و شمار پرمشتمل یہ رپورٹ ان فعال اقدامات کی تفصیل فراہم کرتی ہے جو ٹک ٹاک نے اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والے کانٹینٹ کی نشاندہی اور اسے حذف کرنے کے لیے اختیار کئے تاکہ اپنی عالمی کمیونٹی کے لیے مثبت تجربہ یقینی بنایا جاسکے۔
ٹک ٹاک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 2025 کی دوسری سہ ماہی کے دوران عالمی سطح پر ٹک ٹاک نے مجموعی طور پر 189 ملین ویڈیوز حذف کیں جو پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کئے گئے، کُل کانٹینٹ کا تقریباً 0.7 فیصد بنتی ہیں۔
حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 16 کروڑ 39 لاکھ 62 ہزار دو سو اکیالیس ویڈیوز خودکار ٹیکنالوجیز کی نشاندہی پر حذف کی گئیں جبکہ 74 لاکھ 57 ہزار 309 ویڈیوز مزید جائزے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔
فعال انداز میں کانٹینٹ کوحذف کرنے کی شرح 99.1 فیصد رہی اور ان میں 94.4 فیصد نشان زدہ کانٹینٹ کو پوسٹ کئے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر حذف کر دیا گیا ہے۔ ٹک ٹاک کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اس سہ ماہی میں پلیٹ فارم نے سات کروڑ76 لاکھ اکیانوے ہزار چھ سو ساٹھ جعلی اکاؤنٹس حذف کیے اور مزید 2 کروڑ اُنسٹھ لاکھ چار ہزار سات سو آٹھ ایسے اکاؤنٹس بھی حذف کیے گئے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ 13 سال سے کم عمر صارفین کے تھے۔
2025کی پہلی سہ ماہی کی تفصیلی رپورٹ جاننے اور ٹک ٹاک کی کانٹینٹ سے متعلق گائیڈ لائنز، ٹولز اور پالیسیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ٹک ٹاک کیٹرانسپیرنسی سینٹرکا وزٹ کیجیے جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ٹک ٹاک نے ٹک ٹاک کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔