سٹی42: پاکستان کے طول و عرض میں آج زلزلے کے شدید جھٹکوں نے لوگوں کو خدا یاد کروا دیا۔ جھٹکے بعض شہروں میں اتنے شدید تھے کہ لوگ افراتفری کے عالم میں کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔
زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن تھا اور مرکز کی زمین میں گہرائی 234 کلومیٹرتھی۔
بالی ووڈ کے مشہور ترین مزاحیہ اداکار انتقال کر گئے
ریختر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 5.
اب تک کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
زلزلے کے جھٹکے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، چترال، مالاکنڈ، دیر اور گردونواح میں محسوس کیے گئے۔
خیبرپختونخوا کے شہروں میں چارسدہ، رسالپور، نوشہرہ، رستم، بونیر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
مالاکنڈ، چترال، سوات، دیر، تخت بھائی، باجوڑ اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
سوشل میڈیا پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو سنگین دھمکیاں دینےوالا گرفتار
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: زلزلے کے جھٹکے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔