Jasarat News:
2026-07-24@13:04:42 GMT

گوگل کروم کے حریف کے طور پر چیٹ جی پی ٹی اٹلس براؤزر پیش

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گوگل کروم کو دنیا کا سب سے مقبول ویب براؤزر مانا جاتا ہے، لیکن اب اسے ایک نئے اور طاقتور حریف کا سامنا ہونے والا ہے۔

مشہور اے آئی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے اپنا نیا ویب براؤزر متعارف کرایا ہے، جو جدید جنریٹیو اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اسے چیٹ جی پی ٹی اٹلس کا نام دیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس براؤزر کو متعارف کرانے کا مقصد چیٹ جی پی ٹی کو صرف چیٹ بوٹ کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے اسے براہِ راست براؤزنگ کے تجربے کا حصہ بنانا ہے تاکہ صارفین ویب کو زیادہ انٹرایکٹیو انداز میں استعمال کرسکیں۔

یوٹیوب پر لائیو اسٹریم کے دوران متعارف کرائے گئے اس براؤزر کو فی الحال صرف میک او ایس صارفین کے لیے دستیاب کیا گیا ہے، جبکہ ونڈوز، آئی او ایس اور اینڈرائیڈ ورژنز جلد پیش کیے جائیں گے۔

چیٹ جی پی ٹی اٹلس بظاہر کسی عام ویب براؤزر جیسا لگتا ہے، اس میں ٹیبز، بک مارکس، ایکسٹینشنز اور انکوگنیٹو موڈ جیسے عام فیچرز موجود ہیں۔ تاہم فرق یہ ہے کہ اس میں چیٹ جی پی ٹی براہِ راست ضم کیا گیا ہے۔ نئی ٹیب کھولنے پر صارف یا تو ویب ایڈریس لکھ سکتا ہے یا پھر چیٹ جی پی ٹی سے سوال پوچھ سکتا ہے۔

براؤزر میں سرچ، تصاویر، ویڈیوز اور خبروں کے لیے الگ الگ ٹیبز دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ایک چیٹ جی پی ٹی سائیڈ بار بھی شامل کی گئی ہے جو وزٹ کیے گئے ویب پیجز کا تجزیہ کرکے ان کا خلاصہ، وضاحت یا سوالات کے جوابات فراہم کرتی ہے۔

چیٹ جی پی ٹی اٹلس کا سب سے منفرد فیچر میموری ہے، جو صارف کی براؤزنگ ہسٹری اور موضوعات کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں نیچرل لینگوئج کمانڈز بھی شامل ہیں۔ مثلاً اگر آپ لکھیں “reopen the shoes I looked at yesterday” یا “clean up my tabs” تو براؤزر خود بخود ان احکامات پر عمل کرے گا۔

اٹلس کا اجرا اس وقت ہوا ہے جب گوگل، Perplexity اور دیگر ٹیک کمپنیاں بھی اپنے اے آئی فیچرز کو ویب براؤزنگ میں ضم کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، جس سے مستقبل میں ویب براؤزنگ کے انداز میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اے ا ئی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام