ایوارڈ شوز میں مغربی لباس؛ فیشن ڈیزائنر کی پاکستانی اداکاراؤں پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
معروف اسٹائلسٹ، فوٹوگرافر اور ٹیلنٹ ہنٹر خاور ریاض نے ایوارڈ شوز میں اداکاراؤں کے لباس کے چناؤ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
خاور ریاض حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں شریک ہوئے انھوں نے کہا کہ ایوارڈ شوز میں مغربی انداز اپنانا اپنی پہچان کھونے کے مترادف ہے۔
خاور ریاض نے کہا کہ ہماری اداکارائیں ایوارڈ شوز میں مغربی گاؤنز پہن کر آتی ہیں۔ کیا انھیں پاکستانی ثقافت پسند نہیں، کیا اس پر انھیں فخر نہیں۔
اسٹائلسٹ خاور ریاض نے مشورہ دیا کہ ان اداکاراؤں کو چاہیے کہ قومی لباس اور اپنے ثقافتی وقار اور مشرقی انداز اپناتے ہوئے اپنی شناخت کو ہر چیز پر ترجیح کریں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اداکارائیں اکثر انگریزی بولنے کی کوشش کرتی ہیں جبکہ ان کے سامعین خود انگریزی بولنے والے نہیں ہوتے۔
خاور ریاض نے مزید کہا کہ سمجھنے کی بات ہے، انگریزی بولنے کی کوشش میں غلطی ہوتی ہے تو آپ کا مذاق بنتا ہے۔ یہ احساسِ کمتری ہے۔ ہمیں اپنی زبان، ثقافت اور شناخت پر فخر ہونا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فنکاروں کو اپنی جڑوں کی طرف لوٹنا چاہیے اور خود کو مغرب کی نقل میں کھونے کے بجائے پاکستانی شناخت کو نمایاں کرنا چاہیے۔
خاور ریاض نے مزید کہا کہ اپنی پہچان اور اصل کو بھول جانا سب سے بڑی غلطی ہے۔ اگر ہم خود اپنے کلچر کی عزت نہیں کریں گے تو دنیا کیوں کرے گی؟
یاد رہے کہ خاور ریاض پاکستان کی فیشن اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کئی بڑے نام متعارف کروا چکے ہیں اور اپنی بے باک رائے اور دوٹوک اندازِ گفتگو کے لیے جانے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایوارڈ شوز میں نے مزید کہا کہ خاور ریاض نے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔