Islam Times:
2026-06-03@07:15:19 GMT

شمخانی ویڈیو: لباس نہیں، اخلاقی حدود کی پامالی کا سوال

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

شمخانی ویڈیو: لباس نہیں، اخلاقی حدود کی پامالی کا سوال

اسلام ٹائمز: کسی بھی سماج میں اگر ہم کسی حکومت یا پالیسی پر تنقید کرتے ہیں، تو اس کے لیے اخلاقی حدود کا احترام لازمی ہے۔ جنگ ہو، سیاست ہو یا میڈیا کی کشمکش، کسی کی نجی زندگی کو ہتھیار بنانا ایک خطرناک رویہ ہے۔ جو لوگ آزادیِ اظہار یا خواتین کے حقوق کے نام پر کسی عورت کی نجی تقریب کی ویڈیو عام کرتے ہیں، وہ دراصل انہی اقدار کو مجروح کر رہے ہیں جن کا وہ دفاع کرتے ہیں۔ تحریر: ایس این سبزواری

ایران میں علی شمخانی کی بیٹی کی شادی کی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جس انداز سے عالمی اور علاقائی میڈیا نے شور برپا کیا، اس نے دو الگ نوعیت کے سوالات کو جنم دیا ہے: ایک وہ جو ایرانی حکومت کی دوغلی پالیسیوں سے متعلق ہے، اور دوسرا وہ جو اخلاقی اصولوں اور نجی زندگی کی حرمت سے تعلق رکھتا ہے۔

نجی زندگی اور اخلاقی اصول
عوام کو ایران میں ریاستی سطح پر بعض مواقع پر تضاد نظر آتا ہے۔ عوام کے لیے سخت قوانین اور اشرافیہ کے لیے نرمی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی کی نجی تقریب، خاص طور پر صرف خواتین کے لیے مخصوص اجتماع، کو سیاسی یا میڈیا ہتھیار بنانا کسی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ویڈیو ایک خواتین کی نجی تقریب جس میں صرف اور صرف خواتین تھیں کوئی نامحرم موجود نہیں تھا لیک ہوئی ہے، تو یہاں اصل جرم لباس نہیں بلکہ نجی محفل کی خلافِ اجازت فلم بندی اور لیک کرنا ہے۔ دنیا کے ہر مذہبی معاشرے میں، خواہ خواہ کسی مذہب یا فرقے یا کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، خواتین اپنے دائرے میں آزادانہ لباس پہنتی ہیں، کیونکہ وہاں غیر محرم مرد موجود نہیں ہوتے۔ لہٰذا کسی ایسی محفل کی ویڈیو کو عوامی بنا کر ’’دوغلی پالیسی‘‘ کا ثبوت کہنا انصاف نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط ہے۔

ثقافتی حقیقت کو سمجھنا
ایرانی خواتین، حتیٰ کہ سخت مذہبی گھرانوں میں بھی، نجی شادیوں یا گھریلو تقریبات میں مغربی طرز کے لباس پہنتی ہیں۔ یہ کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ ایرانی شہری ثقافت کا تسلسل ہے جو مذہبی حدود کے ساتھ ساتھ گھریلو نجی دائرے میں وجود رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں لباس کو تنقید کا ہدف بنانا، صرف اس لیے کہ ویڈیو لیک ہوئی ہے، دراصل ایرانی معاشرت کی اصل تقسیم ، یعنی عوامی اور نجی زندگی کے فرق کو نظر انداز کرنا ہے۔

سیاسی مفاد اور پروپیگنڈا
اس واقعے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ ویڈیو تقریباً ایک سال پرانی (اپریل 2024ء) ہے، مگر اب منظر عام پر آئی ہے۔ یہ وقت اور انتخاب بذاتِ خود اشارہ کرتا ہے کہ ویڈیو کے افشاء کے پیچھے سیاسی مقصد ہے، ممکنہ طور پر داخلی اختلافات یا بیرونی پروپیگنڈا۔ یہ وہی پرانی حکمتِ عملی ہے جس میں کسی ملک کے سماجی تضادات کو سیاسی ہتھیار بنا کر اس کے اندر خلفشار بڑھایا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران میں تنقید کے کئی پہلو ہیں، مگر تنقید اگر کسی کی نجی محفل یا خاندان کی خواتین کی پرائیویسی کے استحصال سے ہو، تو وہ تنقید نہیں بلکہ انتقام بن جاتی ہے۔

اخلاقی توازن کی ضرورت
اصولاً، کسی بھی سماج میں اگر ہم کسی حکومت یا پالیسی پر تنقید کرتے ہیں، تو اس کے لیے اخلاقی حدود کا احترام لازمی ہے۔ جنگ ہو، سیاست ہو یا میڈیا کی کشمکش، کسی کی نجی زندگی کو ہتھیار بنانا ایک خطرناک رویہ ہے۔ جو لوگ آزادیِ اظہار یا خواتین کے حقوق کے نام پر کسی عورت کی نجی تقریب کی ویڈیو عام کرتے ہیں، وہ دراصل انہی اقدار کو مجروح کر رہے ہیں جن کا وہ دفاع کرتے ہیں۔ ایران کی پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن کسی کی بیٹی کی نجی شادی، وہ بھی خواتین کی مخصوص تقریب، کو سیاسی طنز یا پروپیگنڈا بنانا غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ عمل ہے۔ یہ معاملہ ’’دوغلی پالیسی‘‘ سے زیادہ ’’اخلاقی دوغلے پن‘‘ کی نشاندہی کرتا ہے اور یہی بات سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی نجی تقریب کسی کی نجی نجی زندگی نہیں بلکہ کرتے ہیں کی ویڈیو کے لیے

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف