Jasarat News:
2026-06-03@06:09:35 GMT

اجتماع عام ملکی تاریخ میں نیا باب رقم کرے گا ٗجاوداں فہیم

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251022-08-6
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام 21تا 23نومبر مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے عظیم الشان اجتماعِ عام کے سلسلے میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ شہر بھر میں تنظیمی، انتظامی اور تربیتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں جبکہ مختلف اضلاع اور ذیلی حلقہ جات میں کارکنان کی ملاقاتوں اور مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اجتماعِ عام کی کامیابی کے لیے ہر سطح پر خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو انتظامات، ترسیل، رابطہ عامہ، نظم و ضبط اور تربیتی امور کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ کراچی سے خواتین کی بڑی تعداد میں لاہور روانگی اور اجتماع میں بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔اسی سلسلے میں ناظمہ کراچی حلقہ خواتین جاوداں فہیم کی زیر صدارت ادارہ نور حق کراچی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اجتماعِ عام کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اب تک ہونے والے تنظیمی و انتظامی کاموں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں آئندہ کے اہداف اور ذمے داریوں کا بھی تعین کیا گیا۔ناظمہ کراچی جاوداں فہیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مینارِ پاکستان کا یہ اجتماع ملک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا، یہ اجتماع امید، رہنمائی اور حقیقی تبدیلی کا پیغام بنے گا۔جماعت اسلامی کی خواتین کارکنان اقامت دین کی جدوجہد میں ہمیشہ صف اوّل میں رہی ہیں اور اب بھی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ لاہور کے اجتماع میں شرکت کریں گی۔ انہوں نے کارکنات پر زور دیا کہ وہ دعوتی و تنظیمی ذمے داریوں کو مزید فعال بنائیں اور اجتماع عام کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں۔اجلاس میں نائب ناظمہ کراچی فرح عمران، ندیمہ تسنیم، ہاجرہ عرفان، شیبا طاہر، سمیہ عاصم، معاون کراچی سمیہ اسلم اور سیکرٹری اطلاعات کراچی ثمرین احمد بھی موجود تھیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی