مرکزی انجمن امامیہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومتِ گلگت بلتستان اور متعلقہ ادارے فی الفور ایسے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر اہلِ بیت اطہار علیہم السلام، آئمہ معصومین علیہم السلام اور ملتِ تشیع کے مقدسات کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی کابینہ کا ایک اہم اجلاس زیرِ صدارت صدر مرکزی انجمن امامیہ، سید شرف الدین کاظمی انجمن کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجودہ صورتِ حال اور حالیہ واقعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ ناخوشگوار واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے جانبدارانہ رویّہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ متعدد بے گناہ افراد کو بلا جواز گرفتار کیا گیا ہے، اور چادر و چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے، جو کہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک طرف تو پُرامن شہریوں پر دباؤ اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر، مقدساتِ اہلِ تشیع کی توہین کرنے والے افراد اور ملتِ جعفریہ کے جذبات سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی، جو کہ انتظامیہ کی دوہری پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

مرکزی انجمن امامیہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومتِ گلگت بلتستان اور متعلقہ ادارے فی الفور ایسے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر اہلِ بیت اطہار علیہم السلام، آئمہ معصومین علیہم السلام اور ملتِ تشیع کے مقدسات کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت کی خاموشی اور غفلت سے شدت پسند عناصر کو تقویت مل رہی ہے، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے اور معاشرتی انتشار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مرکزی انجمن امامیہ نے واضح کیا کہ مقدسات کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر ایسے عناصر کے خلاف مثالی کارروائی کرے تاکہ آئندہ کوئی شخص مذہبی منافرت پھیلانے یا اہلِ تشیع کے مقدسات کی توہین کرنے کی جسارت نہ کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان علیہم السلام اجلاس میں کے خلاف کیا گیا گیا کہ

پڑھیں:

نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔

پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔

رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔


متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے