پاراچنار قومی مرکز کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم تنظیمی سمینار
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: سیمینار میں انجمن حسینیہ کی نمائندگی ڈاکٹر علی محمد، تحریک حسینی کی نمائندگی استاد سید نبی الحسینی اور ماسٹر سید جاوید حسین، مجلس علماء اہلبیت کی نمائندگی علامہ ڈاکٹر سید احمد الحسینی، وکلاء برادری کی نمائندگی ریاض حسین ایڈووکیٹ، مدرسہ جعفریہ سے علامہ نور حسین، صحافی برادری سے حاجی سجاد حسین، آئی او سے ماسٹر سفر علی اور شہید فاونڈیشن سے عظمت علی صاحب نے شرکت کی۔ تنظیموں اور اداروں کے علاوہ دیگر ماہرین میں سے سابق سیکرٹری انجمن حسینیہ سر جلال حسین، اسسٹنٹ پروفیسر سر عامر حسین، اسسٹنٹ پروفیسر سر علی نقی صاحب نیز کرم کے درجنوں دیگر اہم تھنک ٹینکس نے شرکت کی۔ رپورٹ: استاد ایس این حسینی
اتوار 19 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے مسجد امام جعفر صادقؑ المصطفیٰ کالونی پاراچنار میں ایک اہم تنظیمی سیمینار کا انعقاد ہوا، جس میں کرم کی تمام تنظیموں کے نمائندگان، نیز زندگی کے ہر شعبے اور پیشہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر انجمن حسینیہ کی نمائندگی ڈاکٹر علی محمد نے، تحریک حسینی کی نمائندگی استاد سید نبی الحسینی اور ماسٹر سید جاوید حسین، مجلس علماء اہلبیت کی نمائندگی علامہ ڈاکٹر سید احمد الحسینی، وکلاء برادری کی نمائندگی ریاض حسین ایڈوکیٹ، مدرسہ جعفریہ سے علامہ نور حسین، صحافی برادری سے حاجی سجاد حسین اور شہید فاونڈیشن سے عظمت علی صاحب نے شرکت کی۔ تنظیموں اور اداروں کے علاوہ دیگر ماہرین میں سے سابق سیکرٹری انجمن حسینیہ سر جلال حسین، اسسٹنٹ پروفیسر سر عامر حسین، اسسٹنٹ پروفیسر سر علی نقی، استاد سفر علی نیز کرم کے درجنوں دیگر اہم تھنک ٹینکس نے شرکت کی۔
شرکاء نے موجودہ مرکز کی مضبوطی کے حوالے سے باری باری اپنی تجاویز پیش کیں۔ مقررین کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز کے اہم ترین نکات کچھ یوں تھے۔
1۔ مرکزی انجمن حسینیہ کے انتخاب کے طریقہ کار میں اصلاح کی جائے، متعلقہ حلقہ یا قوم ایک کی بجائے چار یا پانچ نام پیش کریں۔ مرکز میں پیش امام کی سرپرستی میں ماہر، تعلیم یافتہ اور تنظیمی افراد کی چھ رکنی کمیٹی ان پانچ میں سے مناسب اور اہل ترین فرد کا انتخاب کرے۔
2۔ انجمن کے ہر رکن یا چند ارکان کو متعلقہ فیلڈ میں تجربہ کی بنیاد پر ایک محکمہ سپرد کیا جائے۔
3۔ ہر کام اور شعبے کے لئے مرکز میں علیحدہ دفتر کا اہتمام کیا جائے اور ان کے لئے مناسب اور اہل افراد پر مشتمل ذیلی کونسل بنائی جائیں۔ 1۔ علماء کونسل 2۔ ہیلتھ کونسل 3۔ ایجوکیشن کونسل 4۔ دیوانی کونسل 5۔ عوامی جرگہ کونسل
4۔ مہینے میں ایک مرتبہ میٹنگ کا اہتمام کرانا، جس میں وہ حل شدہ مسائل، نیز درپیش نئے مسائل کا جائزہ لے سکیں۔
5۔ ہر تین ماہ بعد پیش امام کی سرپرستی میں میٹنگ کا انعقاد کرانا، جس میں ہر رکن انجمن اور محکمہ اپنا کارکرگی رپورٹ پیش کرسکیں۔ حل شدہ معاملات کی تفصیل اور لاینحل مسائل کے اسباب و وجوہات پیش کریں۔
6۔ مرکز کی سرپرستی میں اہم اور ضروری شعبوں کا قیام عمل میں لانا۔
7۔ کرم کے اہم اور اہل افراد کا تعاون حاصل کرنے کے علاوہ انہیں مرکز میں مناسب ذمہ داری سونپنا۔
8۔ ہر دوسرے یا تیسرے نماز جمعہ کے دوران کسی خاص محکمے کے ایک ماہر کو لیکچر کا موقع دینا۔
9۔ اصلاح معاشرہ اور جوانوں کی تربیت کے سلسلے میں علمائے کرام پر مشتمل کمیٹی کا گاؤں گاؤں کی سطح پر دوروں کا اہتمام کرانا۔
10۔ ہر گاؤں کی سطح پر قرآن سنٹرز اور ٹیچنگ اکیڈیمیز کا اہتمام کرانا۔
11۔ گدا گری، منشیات، بے حیائی اور دیگر معاشرتی اور معاشی کمزوریوں کا تدارک کرانا۔
12۔ سرکاری، نیم اور غیر سرکاری اداروں کی اصلاح کیلئے عملی اقدامات کرانا، وہاں پر اسٹاف اور سہولیات کی کمی کو پورا کرانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانا۔
ان اہم اصلاحات کے حوالے سے لیکچر دیئے گئے اور تجویز یہ پیش کی گئی کہ آقائ فدا حسین مظاہری کی تشریف آوری پر یہ تجاویز ان کے سامنے رکھی جائیں گی اور یہ کہ ان کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کیا جائے گا۔ اس موقع پر مقررین نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ مرکز اور دیگر تنظیموں میں بیشک کمزوریاں ہونگی، تاہم کرم کے ہر فرد اور ہر تنظیم کا اپنا بھی ایک فرض اور ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے کے حوالے سے متعلقہ تنظیم کی کمک کریں۔ مثلاً قومی امور اور دفاع کے حوالے سے انجمن اور تحریک کی کمک کریں۔ ہیلتھ کے حوالے سے بلڈ بینک، تعلیم و تربیت کے حوالے سے آئی ایس او، فقراء کے حوالے سے دسترخوان امام حسن کی کمک کریں۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے کہا گیا کہ بعض جوان سوشل میڈیا پر سخت بیان کو قومی خدمت اور مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔
حالانکہ یہ حل نہیں بلکہ حل یہ ہے کہ اپنے جذبات کو احتجاج کی صورت میں متعلقہ محکمے اور سرکار کے سامنے پیش کیا جائے۔ میٹنگز اور تجاویز کی بجائے عملاً کام کیا جائے۔ اس میٹنگ کے بعد آنے والی تمام تجاویز کو عملی کرایا جائے۔ معاشرے میں موجود برائیوں کے خاتمے اور تمام کمزوریوں کے تدارک کے لئے عملاً کام کیا جائے۔ میٹنگ کے دوران سابق سیکرٹری انجمن حسینیہ نے اپنے دور میں انجمن حسینیہ کی کمزوریوں کی نشاندھی کی اور اس سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کرنے کے علاوہ اصلاحات کے لئے اپنی سطح پر اقدامات کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ تجاویز پیش امام محترم شیخ فدا حسین مظاہری کے سامنے بھی رکھی ہیں۔ جن کے ساتھ انہوں نے اتفاق بھی کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسسٹنٹ پروفیسر سر انجمن حسینیہ کی نمائندگی کے حوالے سے نے شرکت کی کا اہتمام کیا جائے کے علاوہ کے لئے پیش کی کرم کے
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :