اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ مذہب کےنام پر جتھےکون اور کس لیے تیار کرتا رہا ہے یہ سب کو پتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پابندی لگنے جا رہی ہے یا نہیں اس پر بات نہیں کروں گا، مذہب کے نام پر اس طرح کے جتھے کسی بھی ریاست میں قابل قبول نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی اس طرح کے جتھوں کو برادشت نہیں کرنا چاہیے، بہت دیرہوگئی ہے کئی دہائیوں سے ہم یہ جتھے تیار کرتے رہے ہیں، یہ جتھےکون تیار کرتا رہا ہے اور کس کے لیے تیار کرتا رہاہے یہ سب کو پتا ہے، اب یہ ریاست قانون قاعدے اور آئین کے مطابق چلے گی، کسی وقت کی ضرورت یا کسی اور جائز یا نا جائز ضرورت کے مطابق نہیں چلے گی۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ہارڈ اسٹیٹ بننا ہو گا، اس قسم کی مذہبی انتہاپسند جماعت جو لوگوں کو مارےیا املاک کونقصان پہنچائے یہ قابل قبول نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کے کارکنان کواسلام آباد جانے کےلیے تیار رہنے کے بیان کا مجھے علم نہیں، مولانا میرے لیے بہت قابل احترام ہیں اور میں مولانا سے متعلق کوئی بھی بات کرنے سے گریز کروں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تیار کرتا لیے تیار

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم