گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے، پھر بھی کسان اور پیپلزپارٹی ناخوش، کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
وفاقی حکومت کی جانب سے گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری کے بعد پیپلزپارٹی اور کسان اتحاد کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے نئی پالیسی میں گندم کی فی من امدادی قیمت 3500 روپے مقرر کی ہے، تاہم سندھ حکومت نے وفاق سے کم از کم امدادی قیمت 4200 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ کسان اتحاد پاکستان کے چیئرمین خالد حسین نے کہا ہے کہ اگر حکومت گندم کی امدادی کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر نہیں کرتی تو کسان گندم کاشت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے کسان اتحاد کی آئندہ سال گندم کی کاشت نہ کرنے کی دھمکی
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منظور کی گئی پالیسی کے مطابق حکومت کسانوں کے تحفظ اور گندم کے اسٹریٹجک ذخائر کی خریداری یقینی بنائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، گندم کی فصل کسانوں کے لیے آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس لیے حکومت کسانوں کے مفاد کو یقینی بنائے گی۔
دوسری جانب سندھ کے وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث صوبے وفاق کے بغیر کسانوں کو امدادی قیمت نہیں دے سکتے۔ ہم نے صوبائی سطح پر کسانوں کے لیے 56 ارب روپے کا پیکیج دیا ہے اور فی ایکڑ 24 ہزار 700 روپے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے گندم کی امدادی قیمت 3500 سے بڑھا کر 4200 روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے گندم کا بحران اور ہمارے کسان
کسان اتحاد پاکستان کے چیئرمین خالد حسین نے کہا ہے کہ اگر حکومت گندم کی امدادی کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر نہیں کرتی تو کسان گندم کاشت نہیں کریں گے۔ حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من کا جو اعلان کیا گیا ہے وہ کسان کی لاگت سے بھی کم ہے۔ کسان کی گندم پر لاگت 4 ہزار سے 4500 روپے فی من تک ہوتی ہے۔ سیلاب نے کسانوں کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اب حکومت کی جانب سے کم ریٹ کا اعلان کر کے کسانوں پر مزید بوجھ ڈالا گیا ہے۔ اگر حکومت فی من قیمت 4500 روپے مقرر نہیں کرتی تو کسان آئندہ سال کے لیے گندم کاشت نہیں کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت پر اختلافات وفاق میں ن لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے درمیان نئے تنازعے کو جنم دے سکتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان گندم خریداری، ذخیرہ اور سبسڈی پالیسی پر اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔ اگر سندھ حکومت اپنے مطالبے پر قائم رہی تو گندم کی قیمت پر صوبائی و وفاقی پالیسیوں میں تضاد بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات قومی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ حکومت شہباز شریف گندم کی امدادی قیمت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی سندھ حکومت شہباز شریف گندم کی امدادی قیمت گندم کی امدادی قیمت سندھ حکومت کسان اتحاد روپے فی من کسانوں کے گندم کا کے لیے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔