ہر سال تمباکو نوشی سے دنیا بھر میں 80 لاکھ اموات کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں انکشاف ہوا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے دنیا بھر میں 80 لاکھ افراد جاں بحق ہوتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کی جانب سے دو روزہ مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا مقصد پاکستان میں تمباکو نوشی کے کنٹرول کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) اور اس کے ایم پاور اجزاء کے نفاذ میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔
تقریب کے مہمان خصوصی صدر پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے، جہاں تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں جن میں سے ہر سال 1 لاکھ 66 ہزار سے زائد اموات اسی وجہ سے رپورٹ ہوتی ہیں۔
انہوں نے جنوبی ایشیا میں تمباکو نوشی کے استعمال میں 70 فیصد سے 37 فیصد کمی کو خوش آئند پیش رفت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان بھی مستقل عوامی آگاہی، مضبوط تعلیمی مہمات، اور عالمی بہترین طریقہ کار اپنانے سے یہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے کہا کہ تشویشناک اعداد و شمار سے ہٹ کر اصل خطرہ نوجوانوں میں تمباکو مصنوعات کی بڑھتی ہوئی کشش ہے۔
ڈاکٹر چیمہ نے زور دیا کہ موجودہ قوانین کے باوجود ٹی اے پی ایس کے کئی پہلو ابھی بھی موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
تقریب کے میزبان پروگرام مینیجر سپارک ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر، نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے تمباکو کنٹرول کے شعبے میں پیش رفت کی ہے ابھی بھی صارفین کے رویے کچھ چیزوں کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارے صحت(ڈبلیو ایچ او)کے مطابق جن ممالک نے ٹی اے پی ایس پر مکمل پابندی عائد کی ہے وہاں خاص طور پر نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ تمام براہ راست اور بالواسطہ تشہیری ذرائع پر مکمل پابندی لگائی جائے۔
ڈاکٹر خلیل نے مزید کہا کہ گرافکس ہیلتھ وارننگ ایک ثابت شدہ اور مؤثر طریقہ ہیں جو تمباکو نوشوں کو چھوڑنے پر آمادہ کرتے ہیں اور نوجوانوں کو ابتدا سے روکنے میں مدد دیتے ہیںْ
اجلاس میں فیصلہ سازوں، سرکاری عہدیداران، صحافیوں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم، میڈیا پیشہ وران، اور نوجوان تنظیموں نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان میں گرافِکس ہیلتھ وارننگ کے نفاذ اور تمباکو تشہیر، اشتہار اور سرپرستی سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اور زور دیا کہ مزید مضبوط نفاذ اور مربوط اقدامات کے ذریعے تمباکو کنٹرول کی رفتار تیز کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تمباکو نوشی میں تمباکو
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔