قبروں کا احترام کرتے ہیں، کسی کی قبر کہیں منتقل نہیں کی جا رہی: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات، عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ جو قبر جہاں ہے وہیں رہے گی لیکن قبر پر چندہ اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ قبروں کا احترام کرتے ہیں، کسی کی قبر کہیں منتقل نہیں کی جا رہی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ موٹرسائیکلوں سے لگژری گاڑیوں تک پہنچنے کا سفر سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں، مذہبی جماعت کے سربراہ کے گھر سے ایک کلو سے زیادہ سونا برآمد ہوا، چندے کی تمام چیزیں مذہبی جماعت کے گھر پہنچتی تھیں، مذہبی جماعت کا ہیڈ کوراٹر نو گو ایریا بنا دیا گیا تھا، ہیڈکوارٹر میں کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ غزہ اور فلسطین کو آزاد کروانے کےلیے نکلنے والے تشدد کرتے رہے، مذہبی جماعت کے سربراہان اور سعد رضوی خود لوگوں کو تشدد کرنے پر اُکساتے رہے، توڑ پھوڑ کے واقعات میں پولیس کی 8 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، مذہبی جماعت کے ذمہ داران پر تشدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ڈنڈا بردار لوگوں نے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں پر بھی تشدد کیا۔
لاہور پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی کی سمری.
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر وہی اسلحہ چلایا گیا، ٹی ایل پی کا پروپیگنڈا سیل آج بھی سوشل میڈیا پر پوسٹیں لگا رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعت کے وفاداروں کے لیے ہیڈکوارٹر کے ساتھ گھر خریدے گئے تھے، ٹی ایل پی کو 36 سو فنانسر مالی امداد کرتے رہے ہیں، اندرونِ و بیرون ملک ٹی ایل پی کے فنانسرز کی نشاندہی کر لی گئی ہے، ٹی ایل پی کے تمام اکاؤنٹس منجمد ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے یہ بھی کہا کہ والدین سے گزارش ہے کہ ان کے نرغے میں مت آئیں۔
اِن کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کو کل سے ادائیگیاں شروع کر دی گئی ہیں، آج 33 موبائل پولیس اسٹیشنز کا افتتاح بھی کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مذہبی جماعت کے ٹی ایل پی کہا کہ
پڑھیں:
گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
کراچی:شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں رب میڈیکل کے قریب منگل کی شب ایک تیز رفتار ڈمپر بے قابو ہو کر سڑک پر الٹ گیا تاہم خوش قسمتی سے قریب سے گزرنے والے شہری اور دیگر گاڑیاں بڑے حادثے سے محفوظ رہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈمپر اچانک توازن کھو بیٹھا اور سڑک پر الٹ گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
حادثے کے فوراً بعد ڈمپر کا ڈرائیور اور ایک اور شخص موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے ڈمپر کے کلینر کو پکڑ لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بعض افراد نے ڈمپر کو آگ لگانے کی کوشش کی تاہم اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور بروقت مداخلت کرتے ہوئے گاڑی کو جلائے جانے سے بچا لیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ حادثہ سڑک پر موجود گہرے گڑھوں اور جاری کھدائی کے باعث پیش آیا جس کے نتیجے میں ڈمپر کا توازن بگڑ گیا اور وہ الٹ گیا۔