WE News:
2026-06-03@03:57:35 GMT

کیا سندھ کی نئی سرنڈر پالیسی کچے کے علاقے میں امن لائے گی؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

کیا سندھ کی نئی سرنڈر پالیسی کچے کے علاقے میں امن لائے گی؟

سندھ حکومت نے دریائی علاقوں (کچے) میں ڈاکوؤں کے لیے نئی سرنڈر پالیسی جاری کر دی ہے، جس کے تحت جرائم پیشہ عناصر کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ پالیسی سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے کچے کے علاقوں پر لاگو ہوگی۔ تاہم، ہتھیار ڈالنے والے افراد کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: کچے کے ڈاکوؤں کا تاوان کے لیے اغوا کیے گئے شہری پر تشدد، ویڈیو اہل خانہ کو بھیج دی

محکمہ داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ یہ پالیسی عام معافی نہیں ہے، بلکہ امن قائم کرنے کے لیے ایک اقدام ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں سے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کیا جائے گا، تاہم ان کے اہلِخانہ کو کسی صورت ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ کچے کے علاقوں میں تعلیمی، صحت اور فلاحی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بند اسکولز اور ڈسپنسریوں کو مرحلہ وار بحال کیا جائے گا، جبکہ سرنڈر کرنے والے افراد کو فنی تربیت اور روزگار کے مواقع دیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: کچے کا پورا علاقہ زیر آب آنے کا خدشہ، تیاری مکمل کرلی، وزیراعلیٰ سندھ

پالیسی پر عمل درآمد کے لیے مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں، اور محکمہ داخلہ میں ایک ریڈریسَل سیل بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

مزید کہا گیا کہ سماجی و معاشی ترقیاتی منصوبے کچے کے علاقوں میں شروع کیے جائیں گے، پالیسی کا ماہانہ جائزہ لیا جائے گا اور زمینی حقائق کے مطابق تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ ضلعی اور ڈویژنل سطح کی کمیٹیاں پولیس کے ساتھ مل کر عملدرآمد کی نگرانی کریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سرنڈر پالیسی سندھ سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کچے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سرنڈر پالیسی سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کچے جائے گا کے لیے کچے کے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف