کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی طرف سے مستحق خاندانوں کو معاشی بااختیار بنانے کے لیے مویشیوں کی فراہمی کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری خیبر پختونخوا، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور اپنے نفاذی شراکت دار ادارے پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے اشتراک سے پاکستان میں مستحق خاندانوں کے معاشی بااختیار بنانے کے لیے مویشیوں کی فراہمی کے منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی نورالامین، ایڈیشنل سیکریٹری، محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری تھے، جبکہ معزز مہمانِ عبداللہ البقمی ڈائریکٹر، کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر پاکستان نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر سرکاری اداروں، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، شراکت دار تنظیموں اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں:دیرینہ دوستی کا مظہر، کنگ سلمان ریلیف کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے ریلیف پیکجز کی تقسیم
یہ منصوبہ مستحق خاندانوں کے روزگار کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ میں بہتری لانے، اور خود انحصاری کے فروغ کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مستفید ہونے والے خاندانوں کو مویشی، پولٹری، اور عملی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔
منصوبے کی تفصیلات:لوئر چترال، اپر چترال، لوئر دیر اور اپر دیر کے 1000 خاندانوں کو 2 مادہ بکریاں، چارہ (سیلیج) اور مویشیوں کی دیکھ بھال کی تربیت دی جائے گی، جو محکمہ لائیو اسٹاک کے تعاون سے فراہم کی جائے گی۔
سوات، صوابی، ہری پور اور مانسہرہ کے 1000 خاندانوں کو 25 مرغیاں، مکمل پولٹری کٹ، اور پولٹری کی دیکھ بھال اور آمدنی پیدا کرنے کی تربیت دی جائے گی، جو محکمہ لائیو اسٹاک کے ذریعے دی جائے گی۔
چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے 500 خاندانوں کو گائے ، چارہ (سیلیج)کے ساتھ عملی تربیت حاصل کریں گے جس میں جانوروں کی دیکھ بھال اور دودھ کی پیداوار شامل ہے۔
کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا بڑا اقدام! معاشی خود کفالت کی جانب بڑھتا قدم!
کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی جانب سے خیبر پختونخوا کے1000 سے زائد خاندانوں کو بکریاں، مرغیاں اور گائے فراہم کی جائیں گی، ساتھ ہی عملی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ وہ روزگار پیدا کر سکیں۔ یہ منصوبہ سعودی عرب اور… pic.
— WE News (@WENewsPk) October 21, 2025
مزید پڑھیں: ’کنگ سلمان ریلیف سینٹر‘ کی جانب سے افغانستان میں خوراک کی فراہمی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئےعزت مآب عبداللہ البقمی ڈائریکٹر کنگ سلمان ریلیف سینٹر پاکستان نے کہا کہ یہ منصوبہ مملکتِ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے، اور کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جو کمزور طبقات کو بااختیار بنانے اور پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جاری ہے۔
مہمانِ خصوصی محترم نورالامین نے مملکتِ سعودی عرب اور کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹرکے تعاون کو سراہا اور پیس اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور محکمہ لائیو اسٹاک کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی شراکت سے یہ منصوبہ نہایت مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کنگ سلمان ریلیف سینٹر خاندانوں کو دی جائے گی یہ منصوبہ کی جانب کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔