​​​​​​​وزیر اطلاعات پنجاب کا نیوز کانفرنس میں کہنا تھا کہ کسی مزار کو کہیں منتقل نہیں کیا جا رہا، ٹی ایل پی دہشت کی علامت بن چکی ہے، ہمیں ووٹ بینک سے غرض نہیں، امن کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے اور اس حوالے سے سخت فیصلے کئے گئے ہیں، ٹی ایل پی کو کالعدم قراردلوانے کیلئے وفاقی حکومت کو کہہ دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور میں نیوز کانفرنس میں کہنا تھا کہ تحریک لبیک دہشت کی علامت بن چکی ہے، کسی کی قبر کو کہیں منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔ مرید کے آپریشن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران 3 سویلین شہید اور 48 زخمی ہوئے، جبکہ 118 پولیس اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے آٹھ پولیس وینز اغواء کیں اور ان میں موجود اسلحہ استعمال کیا گیا۔ حملہ آوروں نے پولیس پر اینٹوں سے بھری ٹرالیاں بھی استعمال کیں۔ اسی طرح متعدد مقامات پر ریسکیو، ایمبولینس اور دیگر گاڑیاں چھینی گئیں اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان تمام واقعات کی باقاعدہ فوٹیجز موجود ہیں اور شاہدرہ میں پولیس اہلکار پر تشدد کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ عظمی بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مذہبی جماعت کا سوشل میڈیا سیل منظم انداز میں پروپیگنڈہ پھیلا رہا ہے اور اس جماعت کی قیادت نے اسلام کے نام پر لاکھوں روپے چندہ اکٹھا کیا۔ تفتیش کے دوران ایک کلو 920 گرام سونا، 898 گرام چاندی اور 28 سونے کے کنگن اس جماعت کے رہنما کے گھر سے برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قیادت نے اپنے ہیڈکوارٹر کے اطراف بے نامی جائیدادیں خرید رکھی تھیں اور وفاداروں کیلئے رہائش کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ 3,800 افراد اس جماعت کو باقاعدہ فنڈنگ کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے متعدد کے اکاونٹس فریز کر دیئے گئے ہیں اور اگر کوئی آئندہ فنڈنگ کی کوشش کرے گا، تو اس کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔

سعد رضوی کے نام پر 95 بینک اکاونٹس اور مسروقہ/غیر مسروقہ جائیدادیں سیل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مذہبی گروہ کی لیڈرشپ کو تفتیشی عمل کے تحت تین ٹئیرز میں تقسیم کرکے ٹریک کیا جا رہا ہے، اور تمام اکاونٹس کی ٹریسنگ جاری ہے۔ عظمی بخاری نے واضح کیا کہ یہ کارروائی کسی خاص مذہبی فرقے کیخلاف نہیں، بلکہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کیخلاف کی جا رہی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں اور خبردار کیا کہ مساجد کو مسمار نہیں کیا جا رہا بلکہ متعلقہ مساجد کو اوقاف کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے فی الحال 330 مساجد کو ٹیک اوور کر لیا ہے اور 222 مدارس کی جیو ٹیگنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مدارس کو جلد کھول دیا جائیگا اور ان پر اہلسنت و الجماعت کے علماء کو کنٹرول دیا جائے گا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اس مذہبی جماعت کے چند مدرسے حکومت کی زمین پر بنے ہوئے تھے، ان کے بارے میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔ سکیورٹی اور عدالتی کارروائی کے پیرائے میں عظمی بخاری نے کہا کہ اس جماعت کیخلاف خصوصی پراسیکیوشن سیل قائم کر دیا گیا ہے، تاکہ عدالتی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تفتیش کے دوران 33 دہشت گردی کے مقدمات میں نامزد افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی اور دونوں (رضوی) بھائیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو بھی اس جماعت کو بین کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملک و صوبے میں انتشار پھیلانے والے افراد کیخلاف سوشل میڈیا پر سخت کارروائی کی جائے گی اور صحافیوں، سیاستدانوں کو دھمکیاں دینے والے گروپس کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے واضح کیا کہ ہم کسی ووٹ بینک یا الیکشن کے بارے میں نہیں سوچ رہے، ہم اس وقت صوبے کی عوام کی خوشحالی اور امن و امان کا خیال رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعد رضوی کے گھر سے برآمد ہونیوالے قیمتی زیورات اور جائیدادوں کی تفصیلی جانچ جاری ہے۔ جن افراد نے بیرون ملک بیٹھ کر یا اندر ملک میں اس گروپ کو سہارا دیا، وہ بھی تفتیش کے دائرے میں ہیں، اس سلسلے میں کچھ بیرونِ ملک رہنے والے سیاسی عناصر پر بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جو افراد، تنظیمیں یا اکاؤنٹس اس گروپ کی مالی حمایت کریں گے ان کیخلاف دہشتگردی قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بخاری نے کہا کہ کیا جا رہا جا رہا ہے انہوں نے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی