معروف گلوکارہ حمیرا ارشد نے فواد خان کی پاکستان آئیڈل میں بطور جج شمولیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ایسے فنکار بیٹھے ہیں جن کا موسیقی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حمیرا ارشد نے حال ہی میں ایک پروگرام میں شرکت کی، جہاں میزبان نے ان سے سوال کیا کہ پاکستان آئیڈل کے بہت چرچے ہیں لیکن اس کے پینل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ فواد خان کو بٹھا دیا، کیا یہ ججز کا پینل ٹھیک ہے؟ اس پر حمیرا ارشد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا کہ پاکستان آئیڈل میں ایسے فنکار بیٹھے ہیں جن کا موسیقی سے تعلق نہیں ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: ماہرہ خان اور فواد خان کی رومانوی فلم ’نیلوفر‘ کا ٹریلر جاری، مداحوں میں جوش و خروش

ہمارے ہاں ایسے لوگ جج بن جاتے ہیں جن کا موسیقی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اور ججز کو خود بھی شرم آنی چاہیے کہ جب ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے تو ہمیں اس میں نہیں آنا، ان کو آگے بڑھ کر خود کہنا چاہیے کہ آپ متعلقہ لوگوں کو ہی بطور جج بٹھائیں، ہمیں ساتھ بٹھا لیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسپانسر کی ڈیمانڈ ہوتی ہے اور لوگ ان کو پسند کرتے ہیں لیکن انہیں خود پتہ ہونا چاہیے کہ میں اس پروگرام کو جج نہیں کر سکتا۔ ہاں بطور سلیبرٹی میں ساتھ بیٹھ جاؤں گا لیکن جج کے طور پر بٹھانا غلط بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’فواد خان کو شرم آنی چاہیے‘، سوشل میڈیا پر اداکار کے بائیکاٹ کی مہم کیوں؟

حمیرا ارشد نے مزید کہا کہ یہ تو خود توہین کرانے والی بات ہے کہ آپ اپنے پروگرام کا خود مذاق بنا رہے ہیں، شو میں کوئی بچہ کہہ دے کہ اگر میں نے ٹھیک نہیں گایا آپ گا کر دکھا دیں تو جج کیا کرے گا کیا وہ 2 مہینے بعد سیکھ کر آئے گا۔ انہوں ںے مزید کہا کہ ایک بندہ پروگرام میں اتنا برا گا رہا تھا لیکن جج رو رہا تھا۔ ان کے مطابق ایسے پروگرامز میں ان لوگوں کو جج بنایا جانا چاہیے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی موسیقی کے لیے وقف کر دی ہو۔

واضح رہے کہ ان دنوں’پاکستان آئیڈل سیزن 2‘ جاری ہے جس میں فواد خان کے ساتھ راحت فتح علی خان، بلال مقصود اور زیب بنگش ججز کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان آئیڈل فواد خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان آئیڈل فواد خان ہیں جن کا موسیقی سے پاکستان ا ئیڈل فواد خان نہیں ہے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود