افغان مہاجرین سمیت کسی بھی غیرقانونی تارک وطن کو نہیں رہنا چاہیے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین سمیت کسی بھی غیر قانونی تارک وطن کو نہیں رہنا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ خالی کی جانے والی بستیاں سرکار کی ہیں اور سرکار ان پر قبضہ کرنے نہیں دے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم فعال کام کر رہا ہے اور تمام آپریشنز کو لائیو مانیٹر کیا جاتا ہے، روٹس اور مسافروں کی مانیٹرنگ ہوتی ہے جبکہ مسافروں کو دی جانے والی سہولیات اور بی آرٹیز کی آمدنی بھی مانیٹر کی جاتی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ خواتین زیادہ سے زیادہ ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں، خواتین کو خودمختار بنانے کے لیے پلانز جاری رہیں گے، خواتین کے لیے پہلی بس سروس حکومت سندھ لائی۔ دسمبر میں پنک ای وی ٹیکسی شروع کر رہے ہیں اور اس سے بھی خواتین کو کافی فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بارشوں اور ترقیاتی کام جاری رہنے کے باعث کہیں نہ کہیں بسز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے پورے صوبے کو بس سروس کی بہت ضرورت ہے اور بلاول بھٹو کی سخت ہدایات ہیں کہ اچھی بس سروس دیں، مزید بسیں بھی جلد منگوائیں گے۔
سینیئر وزیر نے کہا کہ مانیٹرنگ سسٹم بھی اعلیٰ قسم کا قائم ہے، شہر میں کچھ اسکیمز التوا کا شکار ضرور ہیں لیکن ان کی وجوہات ہیں، ٹھیکیداروں سے مسئلہ حل ہو چکا ہے اور آئندہ سندھ کابینہ کی میٹنگ میں منظوری حاصل کر لیں گے۔ سینیٹر تاج حیدر برج بھی بنا رہے ہیں اور شاہراہ بھٹو بھی کافی حد تک تیار ہو چکا ہے۔
قبل ازیں، سینیئر وزیر گرین اینڈ اورنج لائن آپریشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پہنچے جہاں انہوں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔ کمانڈ سینٹر حکام نے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کو آپریشنز سے متعلق بریفنگ دی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔