چین مخالف سانائے تاکائچی جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
جاپان کو اپنی پہلی خاتون وزیرِاعظم مل گئیں جب چین مخالف اور سماجی قدامت پسند سیاست دان سانائے تاکائچی نے آخری لمحات میں ایک اتحادی معاہدہ کر کے وزارتِ عظمیٰ حاصل کر لی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سانائے تاکائچی گزشتہ 5 سالوں میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی پانچویں شخصیت ہیں، جو ایک اقلیتی حکومت کی قیادت کریں گی اور انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طے شدہ جاپان کا دورہ بھی شامل ہے۔
پارلیمان نے منگل کو مارگریٹ تھیچر کی مداح سانائے تاکائچی کو وزیرِاعظم منتخب کیا، جو ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں غیر متوقع طور پر اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں، وہ باضابطہ طور پر شہنشاہ سے ملاقات کے بعد عہدہ سنبھالیں گی۔
سابق ہیوی میٹل ڈرمر سانائے تاکائچی 4 اکتوبر کو حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی سربراہ منتخب ہوئی تھیں، یہ جماعت کئی دہائیوں سے مسلسل اقتدار میں ہے لیکن حالیہ برسوں میں عوامی حمایت کھو رہی ہے۔
6 دن بعد تاکائچی کے قدامت پسند نظریات اور ایل ڈی پی کے فنڈنگ اسکینڈل سے ناخوش کومیتو پارٹی نے اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، جس کے بعد تاکائچی نے اصلاحات کی حامی دائیں بازو کی جماعت جاپان انوویشن پارٹی (جے آئی پی) کے ساتھ نیا اتحاد قائم کیا، جو پیر کی شام طے پایا۔
جے آئی پی خوراک پر سیلز ٹیکس کے خاتمے، کارپوریٹ اور تنظیمی عطیات پر پابندی لگانے اور اراکینِ پارلیمان کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
تاکائچی نے پیر کو عہد کیا کہ وہ جاپان کی معیشت کو مضبوط بنائیں گی اور جاپان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دوبارہ تشکیل دیں گی جو آئندہ نسلوں کی ذمہ داری اٹھا سکے۔
سانائے تاکائچی نے وعدہ کیا ہے کہ ان کی کابینہ میں خواتین کی تعداد ’نارڈک ممالک‘ کے معیار کے قریب ہوگی، سابق وزیرِاعظم شیگیرو ایشیبا کی کابینہ میں صرف 2 خواتین تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق ممکنہ خواتین وزرا میں دائیں بازو کی سیاست دان ساتسوکی کاتایاما (وزیرِمالیات) اور امریکی نژاد کیمی اونودا (وزیرِمعاشی سلامتی) شامل ہو سکتی ہیں، جاپان عالمی اقتصادی فورم کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق 148 ممالک میں سے 118 ویں نمبر پر ہے جب کہ ایوانِ زیریں کے صرف 15 فیصد اراکین خواتین ہیں۔
64 سالہ سانائے تاکائچی خواتین کی صحت کے مسائل پر بات بڑھانے کی خواہاں ہیں اور وہ کھل کر اپنے ایامِ انقطاعِ حیض کے تجربے پر بھی گفتگو کر چکی ہیں، تاہم وہ اس پرانی قانون سازی میں ترمیم کی مخالف ہیں جو شادی شدہ جوڑوں کو ایک ہی خاندانی نام استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہے، اور وہ شاہی خاندان میں مردانہ جانشینی کی حامی ہیں۔
تاکائچی کو متعدد معاشی و سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تجارت کے معاہدے کے حل طلب معاملات، روسی توانائی کی درآمدات پر دباؤ، اور دفاعی اخراجات میں اضافہ بھی شامل ہیں۔
تاکائچی کے لیے جاپان کی بڑھتی عمر والی آبادی، سست معیشت، اور ایل ڈی پی کی ساکھ بحال کرنا سب سے بڑے چیلنج ہوں گے، چونکہ نئی حکومت پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اقلیت میں ہے، اس لیے قانون سازی کے لیے اسے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔
وہ ماضی میں سخت مالیاتی پالیسی اور حکومتی اخراجات میں اضافے کی حامی رہی ہیں، جو ان کے سیاسی سرپرست سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی ’ایبینامکس‘ پالیسیوں کی بازگشت تھی، اگرچہ بعد میں انہوں نے ان پالیسیوں سے کچھ فاصلہ اختیار کیا، مگر ان کی کامیابی کے بعد جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
چین کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کے باعث وہ ’چائنا ہاک‘ کہلاتی رہی ہیں، تاہم وزارتِ عظمیٰ کے بعد انہوں نے اپنا لہجہ نرم کر لیا ہے اور گزشتہ ہفتے جنگی یادگار ’یاسوکونی مزار‘ کی تقریب سے بھی دور رہیں، جس میں وہ باقاعدگی سے شریک ہوتی رہی ہیں۔
ان پر دباؤ ہوگا کہ وہ مسلسل انتخابی ناکامیوں کے بعد ایل ڈی پی کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کریں، اس دوران چھوٹی جماعتیں، جیسے پاپولسٹ سینسیٹو پارٹی، جو امیگریشن کو خاموش حملہ قرار دیتی ہے، عوامی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایل ڈی پی رہی ہیں کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔