فلسطین کےعوام پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد اور جذبے کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، سفیر ڈاکٹر زوہیر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زوہیر محمد حمداللہ زید نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کے عوام پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد اور جذبے کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور وہ دن دور نہیں جب مقدس سرزمین آزاد ہوگی۔
وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر ڈاکٹڑ زوہیر محمد حمداللہ زید نے اسرائیلی مظالم اور اقوام متحدہ کی ناکامیوں کا تذکرہ کیا، پاکستان اور فلسطین کے اسلامی بھائی چارے پر مبنی تعلقات کے ذکر پر حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے عوام پاکستان کے بہن بھائیوں کی جانب سے کی گئی مدد اور جذبے کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور فلسطین بھی دنیا کے ہر فورم پر پاکستان کے لیے مضبوط پوزیشن لیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب مقامات مقدسہ کی سرزمین فلسطین کو آزادی ملے گی، نیتن یاہو فلسطین کے بچوں اور عورتوں کو قتل کرتا رہا مگر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی، اقوام متحدہ کا نظام ویٹو پاور کی وجہ سے مفلوج ہے اور مظلوم فلسطینیوں کی جانیں بچانے میں عالمی ادارے ناکام رہے۔
ڈاکٹر زوہیر نے کہا کہ فلسطین صرف ایک سرزمین کا نام نہیں بلکہ یہاں امت مسلمہ کے مقدس مقامات پائے جاتے ہیں۔
تقریب سے سابق سفیر و صدر آزاد کشمیر مسعود خان اور سابق سفیر سید ابرار حسین نے بھی خطاب اور کہا کہ اقوام متحدہ دنیا کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے، یو این او دراصل فاتحین کا ایک قبضہ گروپ ہے، یہ تنظیم صرف طاقت ور ملکوں کے مفاد کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔
شعبہ آئی آر اور ماس کمیونیکیشن کے سربراہ ڈاکٹر فیصل جاوید نے کہا کہ فلسطین کے سفیر سمیت سفارتی شخصیات کی یونیورسٹی آمد طلبہ کی خوش قسمتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی علمی و سفارتی شخصیات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو سے طلبہ کا وژن وسیع ہوتا ہے اور ہمارا مشن یہی ہے کہ نوجوان تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنا ورلڈ ویو بھی بہتر بنائیں اور معاشرے کے فکری رہنما بن جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کہ فلسطین فلسطین کے نے کہا کہ
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔